
کراچی: میر رضا کے وکیل جبران ناصر کا کہنا ہے کہ سندھ پولیس اور حکومت قاتلوں کو بچا رہی ہے۔مقتول میر رضا کے وکیل جبران ناصر کا کہنا ہے کہ تفتیشی ٹیم ٹامک ٹوئیوں میں مصروف ہے اب تک جے آئی ٹی بن جانی چاہیے تھی، کرائم سین سے ملے خول کا کیس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ چار ایس ایچ اوز کی موجودگی میں جعلی خول جائے وقوع پر کیسے پھینک دیا گیا۔
جبران ناصر نے کہا کہ تفتیش کے نام پر تماشا لگا رکھا ہے، فلم بنائی جارہی ہے، ڈی آئی جی عامر فاروقی والی تفتیشی ٹیم کیا کررہی ہے۔
کراچی: میر رضا کے وکیل جبران ناصر کا کہنا ہے کہ سندھ پولیس اور حکومت قاتلوں کو بچا رہی ہے۔
میر رضا کے وکیل جبران ناصر کا کہنا ہے کہ تفتیشی ٹیم ٹامک ٹوئیوں میں مصروف ہے اب تک جے آئی ٹی بن جانی چاہیے تھی، کرائم سین سے ملے خول کا کیس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ چار ایس ایچ اوز کی موجودگی میں جعلی خول جائے وقوع پر کیسے پھینک دیا گیا۔
جبران ناصر نے کہا کہ تفتیش کے نام پر تماشا لگا رکھا ہے، فلم بنائی جارہی ہے، ڈی آئی جی عامر فاروقی والی تفتیشی ٹیم کیا کررہی ہے۔
واضح رہے کہ میر رضا کیس کی تفتیش اب تک نامکمل ہے، پولیس نے ملزمان کا پتا لگانے میں ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے عبوری چالان جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کردیا ہے۔
پولیس کےعبوری چالان میں اب تک کسی شخص کو ملزم نامزد نہیں کیا گیا، مقدمے میں اغوا، قتل اور شواہد مٹانے کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
میررضا کے اہلخانہ، دوستوں، کاروباری شراکت داروں سمیت ترپن گواہ شامل ہیں۔
عبوری چالان کے مطابق سی سی ٹی وی ویڈیو، یو ایس بی سمیت دیگر ڈیجیٹل شواہدت فتیش کا حصہ بنائے گئے، مختلف افراد کے بیانات اور موبائل فون ریکارڈحاصل کیےگئے۔
پولیس کو میر رضا کے موبائل فون، ایپل واچ، سم کارڈ ڈیٹا اور بائنانس اکاؤنٹ کی تفصیلات کی فرانزک رپورٹ کا انتظار ہے۔ کاروباری شراکت داروں کے موبائل فون کی فرانزک رپورٹ بھی اب تک نہیں ملی ہے۔
