
کراچی: میر رضا علی کیس میں کمیشن نے ڈاکٹر اسامہ شیخ کا بیان دوبارہ قلمبند کرنے کی درخواست مسترد کردی ہے۔
میر رضا کیس میں جوڈیشل کمیشن نے آج کی کارروائی کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا ہے، کمیشن نے عمیر خان، علی شاز، ڈی جی ہیلتھ سروسز پرویز احمد سمیت اہم گواہوں کے بیان قلمبند کرلیے ہیں۔
احمد حسن، میر رضا کے درمیان طے پانے والا شراکت داری کا معاہدہ باقاعدہ ریکارڈ کا حصہ بنادیا گیا ہے۔
میر رضا کی لاش کی کشادگی کے لیے میڈیکولیگل بورڈ کی تشکیل سے متعلق خط کمیشن میں پیش کردیا گیا ہے، کمیشن کا کہنا ہے کہ احمد بھاردے کے میڈیا پر دعوے کارروائی کو اسکینڈلائز کرنے کی کوشش ہیں۔
کمیشن نے کہا کہ سینئر صحافی اصغر عمر کا فون چھیننے والے وکیل نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا، موبائل چھیننے والے وکیل نے معافی مانگ لی اور صحافی نے بھی انہیں معاف کردیا ہے۔
میر رضا کی منگیتر سلویٰ نے پولیس، ڈی ایس پی سراج لاشاری پر موبائل ڈیٹا کی منتقلی کا الزام عائد کیا ہے، ڈی ایس پی کے بیان ریکارڈ کرانے پر پولیس ڈیٹا کے معاملے پر ان سے تفصیلی پوچھ گچھ کی جائے گی۔
کمیشن کا کہنا ہے کہ واقعے کے تعین کا پورا اختیار اور صوابدید کمیشن کے پاس ہے۔
واضح رہے کہ اے ایس پی ندا، آصف، عابد، فیض الرحمان، صارم بن طاہر کو آئندہ پیش ہونے کے لیے نوٹسز جاری کیے گئے ہیں اور کیس کی مزید سماعت 22 ستمبر صبح 11 بجے تک ملتوی کردی گئی ہے۔
