
ملیر گلشن حدید واقعہ، فیملی کی جانب سے مبینہ اجتماعی خودکشی سے قبل لکھا ہوا خط سامنے آ گیا
کراچی: شہر قائد کے علاقے ملیر گلشن حدید میں گھر سے 5 افراد کی لاشیں ملنے کے واقعے میں فیملی کی جانب سے مبینہ خودکشی سے قبل لکھا ہوا ایک خط پولیس نے حاصل کیا ہے، جس پر خون کے دھبے اور نشانات بھی موجود ہیں۔
خط کی پہلی سطر میں لکھا ہوا ہے ”ہمارا یہ قدم اٹھانے کی وجہ“۔ خط لکھنے والے نے لکھا ’’ہمارے بابا کی موت کے بعد رشتہ داروں نے ہمیں تنگ کرنا شروع کر دیا تھا، ہمیں کہتے تھے کہ بابا کو ہم نے مارا ہے۔‘‘
خط میں لکھا ہے ’’ہمارے پاس کوئی روزگار نہیں تھا، 6 ماہ سے ہم اپنے رشتہ داروں سے مدد مانگ رہے تھے، کبھی راشن کبھی بچوں کے دودھ کے لیے مدد مانگی، سلینڈر میں گیس بھروانے کے لیے بھی پیسوں کی مدد مانگی۔‘‘
’’ہماری خالاؤں، چاچوں اور کزن نے ذلیل کر کے رکھ دیا، ہمیں کہا ہم سے پیسے نہیں مانگو، ہمارا تم سے کوئی تعلق نہیں، یہ وہی لوگ ہیں جنھوں نے ہمارے بڑوں سے وعدہ کیا تھا کہ تمھارے جانے کے بعد ان کا دھیان رکھیں گے، لیکن نہ انھوں نے ہماری مالی مدد کی اور نہ ہی نوکری ڈھونڈ کر دی، ہمیں بالکل بے یارو مددگار چھوڑ دیا تھا، نہ یہ ہم سے ملنا گوارا کرتے نہ ہمیں اپنے گھر پر بلانا گوارا کرتے۔‘‘
خط میں کہا گیا کہ ’’اگر ہم خود ان سے ملنے چلے جاتے تو یہ ہمیں ذلیل کرتے تھے، ہمیں دھکے دے دے کر گھر سے نکال دیتے تھے، ہمارے باپ کا جنازہ بھی ہمارے گھر سے نہیں اٹھنے دیا، ان چیزوں کو سوچتے ہوئے ہم سب ڈپریشن میں چلے گئے تھے، اب ہم سے اور برداشت نہیں ہوتا، جس گھر پر ہم کرائے پر رہ رہے ہیں وہ بھی غریب ہیں۔‘‘
’’کافی عرصہ ہو گیا ہم میں اور ہمت اور برداشت نہیں، ہم سب نے مل کر فیصلہ کیا کہ اب ہم اس دنیا میں اور نہیں رہ سکتے، یہ کربلا سے بھی بدتر دور ہے، ہمارے گھر میں کالا جادو بھی کیا گیا، ہمارے گھر سے چیزیں بھی برآمد ہوئیں، اور یہ کرنے والے بھی رشتہ دار ہیں۔‘‘
خط میں کہا گیا ’’ہماری آخری خواہش ہے جس کی وجہ سے ہم پر یہ حالات آئے یہ کہ وہ پوری دنیا کے سامنے مثال بنیں، ہمارے اس ملک کے قانون سے کوئی امید نہیں ہے، کیوں کہ اس ملک کا قانون بے غیرت اور لالچی ہے، میت پر صرف بریانی کھانے والے لوگ آتے ہیں، کسی کی کوئی مدد نہیں کرتا، روڈ پر پڑی لاش اٹھا کر بچانے کی کوشش نہیں کی جاتی۔‘‘

