عالمی برادری طالبان حکومت کو تسلیم کرے، سپریم لیڈر ہیبت اللہ کا مطالبہ

افغان طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ نے عالمی برادری سے طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

افغانستان میں سخت گیر طالبان حکومت کے قیام کو آٹھ ماہ سے زائد عرصہ ہو چکا ہے تاہم اب تک دنیا کے کسی بھی ملک نے اس حکومت کو نہ تو تسلیم کیا ہے اور نہ ہی اس کے ساتھ سفارتی روابط قائم کیے ہیں۔

طالبان سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ نے عید الفطر کی نسبت سے ایک بیان میں کہا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آج کی دنیا سمٹ کر ایک گاؤں بن چکی ہے۔ افغانستان کا عالمی امن و سلامتی میں اپنا ایک کردار ہے اور اسے پورا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری اسلامی اماراتِ افغانستان کو تسلیم کرے۔

عالمی ادارہ برائے خوراک کے مطابق 4 کروڑ آبادی میں سے 2 کروڑ 30 لاکھ شہری شدید بھوک کا شکار ہیں جبکہ ان میں سے 90 لاکھ قحط کے انتہائی قریب ہیں۔

بین الاقوامی برادری کی طرف سے طالبان حکومت سے مسلسل افغان خواتین کے مساوی حقوق اور اُن کے لیے حصولِ تعلیم کے دروازے کھولنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جس پر طالبان حکومت خاموش ہے۔

طالبان حکومت ميں خواتین کے مغربی طرز کے لباس کا کوئی تصور نہيں۔ اگرچہ افغانستان ميں فی الحال خواتین کے ليے برقع لازمی قرار نہيں ديا گيا ہے تاہم اکثريتی خواتين نے خوف کے باعث برقع پہننا شروع کر ديا ہے۔

گزشتہ برس اگست میں طالبان حکومت کے قیام سے اب تک ہزاروں افغان خواتین اپنی سرکاری ملازمتوں سے محروم ہو چکی ہیں جبکہ اُن کی تعلیم اور محرم مرد کے بغیر آزادانہ نقل و حرکت پر بھی پابندی عائد ہے۔

طالبان کے اعلیٰ رہنما ہیبت اللہ اخوندزادہ گزشتہ کئی برسوں سے منظر عام پر نہیں آئے۔ وہ عمومی سیاسی چکا چوند سے دور افغان شہر قندھار میں رہتے ہیں جسے طالبان تحریک کا فکری مرکز سمجھا جاتا ہے۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*