
صومالیہ کے بحری قزاقوں نے 21 اپریل کو قبضے میں لیے گئے بحری جہاز ’اونر 25‘ پر یرغمال بنائے گئے 11 پاکستانیوں کی رہائی کے لیے حکومتِ پاکستان سے فوری مذاکرات کا مطالبہ کر دیا ہے۔ انسانی حقوق کی رہنما شاہین برنی سے ہونے والی گفتگو میں قزاقوں نے انکشاف کیا کہ جہاز پر حالات انتہائی خراب ہیں اور عملے کو دن بھر میں صرف ایک بار کھانا دیا جا رہا ہے۔ قزاقوں نے شکوہ کیا کہ پاکستانی حکومت ان سے رابطے میں نہیں ہے، لہٰذا حکومت کو رہائی کے لیے جلد بات چیت شروع کرنی چاہیے۔ اس بحرانی صورتحال میں متاثرہ خاندانوں کی اپیل پر سماجی تنظیم ’انصار برنی ٹرسٹ‘ نے عملے کی باحفاظت واپسی کے لیے کوششیں شروع کر دی ہیں اور اس سلسلے میں مغوی پاکستانیوں کی اپنے اہل خانہ سے بات بھی کرائی گئی ہے۔ واضح رہے کہ اس آئل ٹینکر پر مجموعی طور پر 36 ارکان سوار ہیں، جن میں 11 پاکستانیوں کے علاوہ 25 سری لنکن اور دیگر ممالک کے شہری شامل ہیں، جبکہ جہاز کا کپتان انڈونیشی ہے۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر بحری سلامتی اور آبنائے ہرمز کے گرد و نواح میں کشیدگی کے باعث پہلے ہی فضائی اور سمندری خطرات کے الرٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔
