سندھ کی وحدت کو ہم بہت عزیز سمجھتے ہیں۔ لیکن عوام کو اختیار کب ملے گا؟

علشبہ علی

سندھ پاکستان کا حصہ ہے اور اس کی زمین سے محبت اور اس کے انتظامی نظام پر سوال ایک دوسرے کے سے الگ نہیں ہیں۔ صوبے کی تاریخی وحدت اہم ہے، مگر سوال یہ ہے کہ سندھ حکومت بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کتنی تیار ہے، یہ بھی اہم ہے۔ ۲۰۲۳ کی مردم شماری کے مطابق سندھ میں تقریباً ۵ کروڑ ۵۷ لاکھ لوگ ۱۴۰،۹۱۴ مربع کلومیٹر پر رہتے ہیں۔ کراچی، کشمور اور تھرپارکر کی ضروریات، آبادی کا پھیلاؤ اور معاشی حالات مختلف ہیں؛ اس لیے ہر علاقے کی ترجیحات کو مؤثر اختیار ملنا چاہیے۔ کشمور سے کراچی کا سڑک پر فاصلہ تقریباً ۶۴۰ کلومیٹر بتایا گیا ہے۔ یہ ہر خدمت کے لیے سفر کی ضرورت نہیں بتاتا، لیکن مرکزی فیصلہ سازی اور دور افتادہ علاقوں کے درمیان جغرافیائی فاصلے کو واضح کرتا ہے۔ جب علاقائی ادارے مسئلہ جانتے ہیں مگر اوپر سے منظوری، وسائل اور عمل درآمد کے اختیار کے لیے دیکھتے رہیں، تو انتظامی سلسلہ طویل ہو جاتا ہے۔ نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت اسی بندوبست کے جائزے سے پیدا ہوتی ہے۔ احتساب، خرابی کی نشاندہی اور ذمہ دار کا تعین ضروری ہے، مگر یہ اختیار کی کمی، غیر یقینی فنڈنگ اور اداروں کے درمیان الجھی ہوئی ذمہ داریوں کا مکمل حل نہیں۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے حکمرانی کی صلاحیت بڑھانا بھی ضروری ہے جو ایک ای کچیری سے تو حل ہونے والا نہیں۔

اس ضرورت کا سب سے اہم حصہ عوامی خدمات ہے۔ اعداد کے مطابق، سندھ میں ۵ سے ۱۶ سال کے بچوں میں اسکول جانے کی شرح ۵۳٪ ہے، جبکہ ۴۷٪ اسکول سے باہر ہیں۔ دس سال اور اس سے زیادہ عمر کے لوگوں میں خواندگی ۵۷٫۵٪ ہے۔ یہ صورتحال علاقائی منصوبہ بندی مانگتی ہے جس میں اسکول، اساتذہ اور سہولتوں کی کمی کا پتہ لگایا جائے، ترجیحات کے مطابق رقم دی جائے اور ذمہ داری واضح ہو۔ چھ ڈویژنوں کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں انتظامی دفاتر موجود ہیں، مگر منتخب ڈویژنل اسمبلیاں اور آزاد بجٹ کا اختیار نہیں ہے۔ موجودہ ڈھانچے بااختیار علاقائی حکومت کے امکانات کو جانچنے کا آغاز ہیں، لیکن نئی عمارتیں اور عہدے بنانا کافی نہیں۔ قومی اعداد کے مطابق، مجموعی سرکاری اخراجات میں مقامی حکومتوں کا حصہ ۲۰۰۵ کے ۱۰٪ سے گھٹ کر ۲۰۲۴ میں ۴٫۷٪ رہ گیا، یعنی ۵۳٪ کمی۔ یہ رجحان دکھاتا ہے کہ ادارے قائم رکھنا اور انہیں مالی طور پر بااختیار بنانا الگ کام ہیں۔ سندھ میں نئے یونٹس کے ساتھ آمدن کا عملی منصوبہ، مالی تقسیم کا واضح طریقہ، محفوظ بلدیاتی فنڈنگ اور خدمات کی معین ذمہ داریاں ضروری ہیں۔ ورنہ ایک اضافی انتظامی سطح اخراجات بڑھائے گی، جبکہ شہری کا مسئلہ مختلف دفاتر کے درمیان گردش کرتا رہے گا۔

سندھ کی تقسیم کے خدشات کو سنجیدگی سے سننا چاہیے، لیکن ہر انتظامی اصلاح کو زمین کی تقسیم کہنا درست نہیں۔ صوبے کے اندر بااختیار علاقائی ادارے بنانے اور نئے صوبے کا قیام دو مختلف تجاویز ہیں؛ ان کی حدود، اختیارات اور نتائج کو واضح کیے بغیر بحث خوف اور نعرے میں گم ہو جاتی ہے۔ سندھ کی صوبائی وحدت برقرار رکھتے ہوئے علاقائی فیصلہ سازی مضبوط کرنے کے امکانات ہیں۔ اگر کسی تجویز سے حدود، وسائل، ثقافتی روابط یا نمائندگی متاثر ہوتی ہو تو اس کی تفصیل مقامی آبادی کے سامنے رکھنی اور ان کی رضامندی حاصل کرنی ضروری ہے۔ عوام کو بتایا جائے کہ اختیار کہاں منتقل ہوگا، آمدن کیسے تقسیم ہوگی اور کم وسائل والے علاقوں کا حصہ کیسے محفوظ رہے گا۔ بریف میں شامل بین الاقوامی تجربات بھی یکساں کامیابی کی کہانی نہیں بتاتے؛ بعض جگہ فائدے ہوئے، جبکہ کہیں انتظامی لاگت اور غیر مساوی نتائج سامنے آئے۔ لہٰذا سندھ کے لیے دلیل صرف چھوٹے یونٹس کی تعداد نہیں، بلکہ ان کا بہتر ادارہ جاتی بندوبست ہونا چاہیے۔ علاقائی شناخت کا احترام، منتخب نمائندگی، مضبوط بلدیات، مالی شفافیت اور عوامی مشاورت اس بندوبست کی بنیاد ہیں۔ سندھ کی وحدت کے تحفظ اور اس کے شہریوں کو مؤثر حکومت دینے کی ضرورت ایک ساتھ پوری کی جا سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم اس کے لیے واضح، عملی منصوبہ کب پیش کریں گے۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*