
خصوصی رپورٹ۔راحت کاظمی
سندھ کی وزارتِ اعلیٰ میں ممکنہ تبدیلی کے حوالے سے پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے درمیان مشاورت جاری ،باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی
وزیراعلیٰ کی تبدیلی، نئے انتظامی یونٹس کی بحث اور ایم کیو ایم کی احتجاجی سیاست صوبے کی سیاسی صورتحال پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں
نئے انتظامی یونٹس اور ممکنہ نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ بھی سیاسی بحث کا مرکز،سندھ کی سیاست میں آنے والے دن انتہائی اہم قرار
سندھ کی سیاست میں ایک بار پھر بڑی تبدیلی کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ باخبر سیاسی ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت سندھ میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی کے معاملے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے، جبکہ نئے وزیراعلیٰ کے لیے فریال تالپور کا نام بھی زیرِ غور بتایا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق سندھ کی وزارتِ اعلیٰ میں ممکنہ تبدیلی کے حوالے سے پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے درمیان مشاورت جاری ہے۔ آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور دیگر اہم رہنماؤں کے درمیان سندھ کی سیاسی صورتحال سمیت وزیراعلیٰ کی تبدیلی کے معاملے پر بھی غور کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔تاہم مراد علی شاہ کی تبدیلی اور فریال تالپور کی بطور وزیراعلیٰ نامزدگی کی تاحال کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔دوسری جانب سندھ میں نئے انتظامی یونٹس اور ممکنہ نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ بھی سیاسی بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔سندھ اسمبلی میں اس حوالے سے قرارداد پیش کیے جانے کے بعد ایوان میں بحث جاری ہے۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سمیت پیپلز پارٹی کی قیادت ماضی میں سندھ کی تقسیم اور نئے صوبوں کے قیام کی تجاویز کی مخالفت کرتی رہی ہے۔ ان کا مؤقف رہا ہے کہ سندھ کو تقسیم کرنے یا نئے صوبے بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ذرائع کے مطابق انتظامی یونٹس کے معاملے پر بعض سیاسی حلقوں میں تحفظات اور ناراضی بھی پائی جاتی ہے، تاہم اس حوالے سے بھی حتمی صورتحال سیاسی قیادت کے فیصلے کے بعد ہی واضح ہوگی۔ادھر سندھ میں پیپلز پارٹی کی طویل حکمرانی کے خلاف متحدہ قومی موومنٹ کی سیاسی سرگرمیاں اور احتجاجی تحریک بھی جاری ہے۔ایم کیو ایم کی جانب سے سندھ حکومت پر بدعنوانی، بدانتظامی اور شہری مسائل کو نظرانداز کرنے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ ایم کیو ایم نے پیپلز پارٹی کی طویل صوبائی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے بدترین کرپشن سے تعبیر کیا ہے۔پیپلز پارٹی کی جانب سے ماضی میں ایسے الزامات کو سیاسی مخالفت قرار دیتے ہوئے مسترد کیا جاتا رہا ہے۔سندھ کی سیاست میں اب سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ آیا پیپلز پارٹی واقعی مراد علی شاہ کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کرتی ہے یا موجودہ وزیراعلیٰ ہی اپنے عہدے پر برقرار رہتے ہیں۔اگر تبدیلی کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو فریال تالپور کا نام سب سے اہم ناموں میں شامل ہونے کی اطلاعات ہیں۔ تاہم حتمی فیصلہ پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی مشاورت کے بعد ہی سامنے آئے گا۔فی الحال مراد علی شاہ ہی وزیراعلیٰ سندھ ہیں اور فریال تالپور کی نامزدگی یا وزیراعلیٰ کی تبدیلی کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔سندھ کی سیاست میں آنے والے دن انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں، کیونکہ وزیراعلیٰ کی تبدیلی، نئے انتظامی یونٹس کی بحث اور ایم کیو ایم کی احتجاجی سیاست یہ تینوں معاملات صوبے کی سیاسی صورتحال پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔
