سندھ میں اساتذہ کی بھرتی اب ‘ٹیچنگ لائسنس’ سے مشروط، ٹیسٹ دینا ہوگا؟

کراچی : سندھ میں اساتذہ کی بھرتی ‘ٹیچنگ لائسنس’ سے مشروط کردی گئی ، جس کے لئے ستمبر میں دوسرے بڑے ٹیسٹ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سندھ ٹیچر ایجوکیشن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے 19ویں بورڈ اجلاس میں صوبائی وزیرِ تعلیم سید سردار علی شاہ کی زیرِ صدارت کئی اہم اور دور رس فیصلے کیے گئے ہیں۔

اجلاس میں سیکریٹری اسکول ایجوکیشن زاہد علی عباسی اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر اسٹیڈا نے بھی شرکت کی، جہاں صوبے میں نظامِ تعلیم کی بہتری کے لیے جامع اصلاحات کی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ سندھ میں ٹیچرز لائسنسنگ ٹیسٹ کا دوسرا مرحلہ ستمبر میں شروع کیا جائے گا، اس ٹیسٹ کے انعقاد کے لیے کسی ماہر تھرڈ پارٹی ٹیسٹنگ ایجنسی کی خدمات حاصل کی جائیں گی تاکہ میرٹ کو یقینی بنایا جا سکے۔

وزیرِ تعلیم نے اصولی منظوری دی ہے کہ آئندہ اساتذہ کی کوئی بھی بھرتی ٹیچنگ لائسنس ٹیسٹ سے مشروط ہوگی۔ اب صرف لائسنس یافتہ امیدوار ہی سرکاری اسکولوں میں بطور استاد تعینات ہو سکیں گے۔

سردار علی شاہ نے تدریسی معیار کو بلند کرنے کے لیے اساتذہ کی بھرتی میں کم از کم 50 فیصد نمبر حاصل کرنا لازمی قرار دینے کی تجویز پر اتفاق کیا گیا۔

ایسے امیدوار جنہوں نے ایک سالہ بی ایڈ ڈگری حاصل کر رکھی ہے، ان کے لیے خصوصی ‘برجنگ کورس’ متعارف کرایا جائے گا۔

اجلاس میں ٹیچنگ لائسنس پالیسی 2023 میں ترامیم اور ارلی چائلڈ ہڈ کیئر اینڈ ایجوکیشن (ECCE) کو شامل کرنے کی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔

وزیرِ تعلیم کا کہنا تھا کہ سندھ تعلیمی اصلاحات میں دیگر صوبوں سے بہتر اقدامات کر رہا ہے، اساتذہ کی بھرتی کے قوانین میں بہتری اور جامع ریفارمز کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی ورکنگ کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔

اسٹیڈا کی استعداد کار بڑھانے کے لیے مارکیٹ بیسڈ آسامیوں کی منظوری پر بھی غور کیا جا رہا ہے اور مستقبل میں ہونے والی بھرتیاں ریٹائرمنٹ اور اسکولوں کی اپگریڈیشن کو مدنظر رکھتے ہوئے میرٹ اور کارکردگی کی بنیاد پر کی جائیں گی۔

سید سردار علی شاہ نے واضح کیا کہ ہمارا مقصد ٹیچنگ کے شعبے کو ایک معزز پروفیشن بنانا ہے، جس کے لیے ٹریننگ اور لائسنس کے شعبے کو مضبوط کرنا ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئی بھرتیاں صرف پیشہ ورانہ معیار اور میرٹ سے منسلک ہوں گی۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*