
خیرپور: ‘کاری’ قرار دے 20 سالہ لڑکی خالدہ چانڈیو کے قتل کیس میں مرکزی ملزمان سمیت 18 افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق سندھ کے ضلع خیرپور کے علاقے ٹنڈو مستی (بٹو چانڈیو) میں پسند کی شادی کی خواہش پر 20 سالہ لڑکی خالدہ چانڈیو کو ‘کاری’ قرار دے کر ہجوم کے سامنے قتل کرنے کے معاملے میں پولیس نے بڑی پیش رفت کی ہے۔
پولیس ذرائع نے بتایا کہ مقتولہ خالدہ چانڈیو کو ایک وڈیرے نے ‘کاری’ قرار دے کر قتل کا فتویٰ جاری کیا تھا، جس کے بعد ہجوم کی موجودگی میں لڑکی کے ماما قیصر چانڈیو اور نانا ولی محمد نے فائرنگ کر کے اسے بیدردی سے قتل کر دیا۔
ملزمان نے قتل کی وڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کی، جس پر وزیرِ داخلہ سندھ، آئی جی سندھ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے سخت نوٹس لیا۔
ایس ایس پی خیرپور امیر سعود مگسی کے مطابق، پولیس نے ریاست کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے قتل میں ملوث مقتولہ کے ماما اور نانا کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ ویڈیو کی مدد سے ہجوم میں موجود 18 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا تھا کہ مقتولہ کی خاموشی سے تدفین کرنے والے مولوی منیر چانڈیو کو بھی گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔
پولیس نے دو مرکزی ملزمان کو خیرپور کی عدالت میں پیش کیا، جہاں ملزم نے غیرت کے نام پر قتل کا اعترافِ جرم کر لیا، جس پر عدالت نے اسے سینٹرل جیل بھیج دیا۔
ملزم نے صحتِ جرم سے انکار کیا، جس پر عدالت نے اسے چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔
ایس ایس پی امیر سعود مگسی کا کہنا ہے کہ کیس کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ملوث کسی بھی شخص کو رعایت نہیں دی جائے گی۔
تاہم، لڑکی کو کاری قرار دے کر قتل کا فتویٰ جاری کرنے والا وڈیرہ اور دیگر بااثر ملزمان تاحال مفرور ہیں جن کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
