
کراچی(یکم اگست 2026): پیپلز پارٹی کے رہنما اور صوبائی وزیر نے کہا کہ نواز شریف، شہباز شریف اور مریم نواز کو تو اپنی نشست پر شکست ہوئی ہے، خیرات کی سیٹوں پر بیٹھنے والے ہم پر چڑھائی نہ کریں۔
پیپلز پارٹی کے رہنما اور صوبائی وزیر سعید غنی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ روز کہا گیا کہ ہم نے پنجاب میں کینسر کے اسپتال بنائے، اچھی بات ہے، آپ نے پنجاب میں دل اور کینسر کے اسپتال بنائے ہیں تو مزید بنائیں کیونکہ پنجاب کے شہریوں کو بھی علاج کی ضرورت ہے، ان کی خدمت کریں۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ کراچی کا این آئی سی وی ڈی دنیا میں نمبر ون اسپتال ہے، کسی ایک چھت کے نیچے اتنے علاج نہیں ہوتے جتنا یہ اسپتال کر رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب سے 1 لاکھ 19 ہزار لوگ این آئی سی وی ڈی علاج کے لیے آئے، جبکہ ایس آئی یوٹی سے بھی پنجاب کے 28 ہزار 500 مریضوں نے علاج کرایا ہے، اور گمبٹ میں دل کے اسپتال سے بھی لوگ علاج کرا کے جا رہے ہیں، ہمیں خوشی ہے کہ پاکستان کے کسی بھی علاقے سے لوگ آکر یہاں علاج کراتے ہیں۔
کراچی پورٹ کی خرابی کے سوال پر سعید غنی کا کہنا تھا کہ یہ سوال ہم سے نہیں بلکہ وفاق سے کیا جائے۔ انہوں نے اخراجات اور بجٹ کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ مالی سال میں سندھ حکومت کا خرچہ 281.7 ارب روپے تھا اور اس سال کا خرچہ بھی اتنا ہی رکھا گیا ہے، جبکہ اس کے برعکس پنجاب حکومت نے بجٹ میں اپنے اخراجات 648.5 ارب روپے رکھے تھے جو اب بڑھ کر 727 ارب روپے ہو چکے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ سال سندھ کا ترقیاتی بجٹ 1 ہزار 18 ارب روپے تھا جس میں اس سال 38 فیصد کمی ہوئی ہے، جبکہ پنجاب کا گزشتہ سال ترقیاتی بجٹ 1240 ارب روپے تھا جس میں موجودہ سال 39.4 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ پنجاب حکومت نے گزشتہ سال 524.7 ارب روپے ٹیکس جمع کیا جبکہ سندھ نے پنجاب سے 150 ارب روپے زائد ٹیکس جمع کیا ہے۔
سیلاب متاثرین کے گھروں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ صوبہ سندھ کو 15 ملین ڈالر مینگروز لگانے کے عوض مل چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کہتی ہے کہ جن کے پاس اپنا پلاٹ ہے انہیں گھر بنانے کے لیے قرضہ ملے گا، جبکہ سندھ حکومت سیلاب متاثرین کو 21 لاکھ گھر بنا کر دے رہی ہے جن میں سے 12 لاکھ گھر بن چکے ہیں، اور خاص بات یہ ہے کہ سندھ حکومت جو گھر بنا کر دے رہی ہے اس کی ملکیت اس فیملی کی خاتون کے نام کی جا رہی ہے۔
لیگی رہنما عظمیٰ بخاری پر تنقید کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ عظمیٰ بخاری سمجھدار خاتون ہیں لیکن پتہ نہیں وہ کس خول میں رہتی ہیں، وہ ہمیشہ مریم مریم کے خول میں رہتی ہیں اس لیے گفتگو سے پہلے سوچ سمجھ لیا کریں۔
انہوں نے کہا کہ عظمیٰ بخاری نے الزام عائد کیا کہ ہم نے کراچی کو ٹینکر مافیا کے حوالے کر دیا ہے، وہ سمجھتی ہیں کہ 2008 میں پیپلز پارٹی آئی اور اس کے بعد ٹینکر چلنا شروع ہوئے، حالانکہ کراچی دنیا کے ان چند شہروں میں سے ہے جہاں پینے کا پانی دور سے آتا ہے اور یہاں ٹینکرز کا مسئلہ نیا نہیں بلکہ بہت پرانا ہے، جبکہ کراچی میں قانونی ہائیڈرنٹس کی تعداد صرف 7 ہے۔
نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے سعید غنی کا کہنا تھا کہ عظمیٰ بخاری کہتی ہیں کہ پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ پنجاب میں صوبے بناؤ، لیکن نئے صوبے بنانے کا اختیار پیپلز پارٹی یا ن لیگ کے پاس نہیں ہے۔ نئے صوبے بنانے کا حل آئین میں درج ہے جس کے تحت جس صوبے میں نیا صوبہ بننا ہے وہاں کی اسمبلی قرارداد پاس کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کی عوام اور منتخب نمائندے کہتے ہیں کہ سندھ میں کسی نئے صوبے کی ضرورت نہیں ہے، اور پنجاب میں بیٹھے کسی شخص کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ سندھ میں صوبے کی بات کرے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ پنجاب اسمبلی میں دو نئے صوبے بنانے کی قراردادیں منظور ہوئی تھیں اور اسے سینیٹ نے بھی منظور کیا تھا جہاں پنجاب کے نمائندوں نے خود کہا تھا کہ پنجاب میں 2 نئے صوبے بننے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ مشرف اور ضیاء کے پیدا کردہ لوگوں کے منہ سے جمہوریت کی باتیں اچھی نہیں لگتی ہیں۔ ہمارے لوگوں نے جمہوریت کی بحالی کے لیے آمروں سے لڑتے ہوئے جانیں قربان کی ہیں۔ اگر شہید ذوالفقار علی بھٹو چاہتے تو زندہ رہتے کیونکہ ضیاء الحق نے انہیں آفر کی تھی اور لوگ بھی بھیجے تھے، لیکن بھٹو صاحب نے کہا کہ میں آمر کے ہاتھوں مرنے کو ترجیح دوں گا۔
’’پیپلز پارٹی نے آج تک انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے اقتدار حاصل نہیں کیا، جبکہ ن لیگ نے سارے اقتدار دھاندلی کے ذریعے حاصل کیے۔ 2024 کے انتخابات میں ن لیگ بری طرح ہاری تھی اور نواز شریف، شہباز شریف اور مریم نواز اپنی سیٹوں پر ہار گئے تھے، جو لوگ خیرات کی سیٹوں پر بیٹھے ہیں وہ ہم پر تنقید کر رہے ہیں‘‘
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ آصف زرداری، بلاول بھٹو، فریال تالپور اور مراد علی شاہ کی جیت پر کوئی الزام نہیں ہے، ہم سب ووٹ لے کر منتخب ہوئے ہیں اور قومی یا صوبائی اسمبلی میں خیرات کی سیٹ لے کر نہیں بیٹھے۔
سعید غنی نے مزید کہا کہ خود چوری کے راستے سے آ کر وزیراعلیٰ بنے اور کہتے ہیں کہ مجھ سے بڑا کوئی معتبر نہیں ہے۔ پاکستان کے بچے بچے کو معلوم ہے کہ انہوں نے دھاندلی کے ذریعے حکومتیں بنائی ہیں۔ گلگت بلتستان میں بھی دھاندلی ہوئی ہے اور ہماری 3،4 سیٹیں چھینی گئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جب کوئی ڈاکا ڈالے گا تو شور تو ہو گا، ہم کہہ رہے ہیں کہ ہمارے الزامات کی تحقیقات کرو اور الیکشن کے نتائج روکو، اور ہم ان کے چہرے سے پردے اتارتے رہیں گے۔ مانگے تانگے کی حکومت میں یہ بیٹھے ہیں ہم نہیں، لہٰذا ہم پر تنقید نہ کریں۔
تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب بنگلہ دیش بنا تب پیپلز پارٹی کی حکومت نہیں تھی، اور ذوالفقار علی بھٹو ملک ٹوٹنے کے بعد وزیراعظم بنے تھے۔ ذرا بھی شک ہوتا تو ضیاء الحق قتل کے مقدمے میں نہیں بلکہ ملک توڑنے پر بھٹو کو پھانسی دیتا، اس لیے پہلے تاریخ پڑھ لیں اور پھر سوچ سمجھ کر بات کیا کریں۔
آزاد کشمیر سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو کا انتخابی نعرہ ہے کہ ہم کشمیریوں کو حق حاکمیت، ملکیت اور روزگار دلوائیں گے۔ ن لیگ والے آزاد کشمیر میں جا کر کہتے ہیں کہ ہم آپ کو بسیں لا کر دے رہے ہیں، جبکہ کشمیری خود کہہ رہے ہیں کہ ہمارے پاس حق حاکمیت، ملکیت اور روزگار نہیں ہے، بلاول بھٹو کہتے ہیں کہ میں کشمیریوں کی نمائندگی قومی اسمبلی میں دیکھنا چاہتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ محسن نقوی وفاقی وزیر ہیں، انہوں نے ایک تقریب میں بات کی ہے، انہیں حق ہے وہ جو چاہے بات کریں، خیالات پر پابندی نہیں ہے، لیکن محسن نقوی کی باتیں ان کی اپنی خواہش ہو سکتی ہے، ان کا بیان صوبہ سندھ کی عوام کا نہیں ہے۔
آخر میں سعید غنی نے کہا کہ اس ملک کی سالمیت کے لیے پاک فوج کی جتنی ضرورت ہے اس سے اختلاف نہیں ہے، اور پاک فوج کے شہداء دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے ہیں۔
