حیدرآباد میں سیوریج کا نظام درہم برہم، سڑکیں گندے پانی میں ڈوب گئیں، پینے کے پانی کا بحران سنگین ہوگیا

کوہسار ہاؤسنگ سوسائٹی سمیت مختلف علاقوں میں کئی روز سے پانی کی فراہمی معطل، شہری ٹینکروں کے ذریعے پانی خریدنے پر مجبور؛ سی ای او واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن طفیل احمد کی برطرفی کا مطالبہ

حیدرآباد (خصوصی رپورٹ: )

حیدرآباد میں سیوریج کا نظام بری طرح متاثر ہونے کے باعث شہر کے مختلف علاقوں، رہائشی یونٹس اور تجارتی مراکز کے اطراف گندے پانی کے تالاب بن گئے ہیں، جبکہ دوسری جانب پینے کے صاف پانی کی عدم فراہمی نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ متعدد علاقوں میں کئی کئی روز سے پانی کی فراہمی معطل ہونے کی شکایات سامنے آرہی ہیں، جس کے باعث شہری بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے شدید پریشانی کا شکار ہیں۔

شہر کے مختلف مقامات پر سیوریج کا پانی سڑکوں پر کھڑا ہونے سے آمدورفت متاثر ہورہی ہے۔ تجارتی مراکز کے باہر گندے پانی کی موجودگی کے باعث دکانداروں، خریداروں اور کاروباری سرگرمیوں میں مصروف افراد کو مشکلات کا سامنا ہے۔ کئی مقامات پر مساجد کے باہر بھی گندا پانی جمع ہونے کی شکایات ہیں، جس سے نمازیوں کو مسجد میں آنے جانے اور عبادات کے لیے پاکیزہ ماحول برقرار رکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ سیوریج کی نکاسی کا مؤثر انتظام نہ ہونے کے باعث گندا پانی سڑکوں اور گلیوں میں جمع رہتا ہے، جبکہ متعلقہ ادارے کی جانب سے فوری اور مستقل اقدامات نظر نہیں آرہے۔ شہریوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ گندے پانی کی مسلسل موجودگی سے تعفن پھیلنے اور مختلف بیماریوں کے خطرات بڑھ سکتے ہیں، اس لیے فوری صفائی اور نکاسی آب کے انتظامات کیے جائیں۔

دوسری جانب پینے کے پانی کی قلت نے شہریوں کی زندگی مزید اجیرن کردی ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں اور یونٹس میں کئی روز سے پانی کی عدم فراہمی کی شکایات کے باعث گھریلو صارفین کو روزمرہ امور کی انجام دہی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ شہریوں کے مطابق پانی جیسی بنیادی ضرورت کے حصول کے لیے انہیں متبادل ذرائع پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے، جس سے ان کے گھریلو اخراجات میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔
حیدرآباد کی کوہسار ہاؤسنگ سوسائٹی میں بھی گزشتہ کئی ماہ سے پینے کے پانی کی عدم فراہمی کے باعث رہائشی شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔ علاقہ مکینوں کے مطابق انہیں پانی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مہنگے داموں ٹینکر منگوانے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ پانی کی مسلسل قلت کے باعث معمولات زندگی متاثر ہوچکے ہیں، جبکہ متعلقہ حکام کی جانب سے مسئلے کے مستقل حل کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔

شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ جب رہائشی علاقوں میں مہینوں تک پانی کی فراہمی معمول کے مطابق برقرار نہیں رہتی اور دوسری جانب سیوریج کا پانی سڑکوں پر جمع ہوتا رہتا ہے تو اس صورت حال کا ذمہ دار کون ہے؟ ان کا کہنا ہے کہ واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی بنیادی ذمہ داریوں میں شہریوں کو پانی کی فراہمی اور سیوریج کی نکاسی کے نظام کو مؤثر انداز میں چلانا شامل ہے، لہٰذا متعلقہ حکام کو شہری شکایات کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔
شہر میں پانی کی قلت اور سیوریج کے مسائل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے سی ای او طفیل احمد ابڑوکو عہدے سے برطرف کیا جائے اور ادارے کی کارکردگی کا جائزہ لے کر ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ محض اعلانات اور وقتی اقدامات کے بجائے پانی کی فراہمی اور سیوریج کی نکاسی کے لیے عملی اور مستقل منصوبہ بندی کی جائے۔

شہریوں نے میئر حیدرآباد، جو واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے چیئرمین بھی ہیں، سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین صورت حال کا فوری نوٹس لیں اور اپنی انتظامی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے متعلقہ افسران کو پانی کی فراہمی بحال کرنے، سیوریج لائنوں کی صفائی اور گندے پانی کی نکاسی کے لیے ہنگامی اقدامات کی ہدایت کریں۔

عوامی حلقوں نے زور دیا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں پانی کی فراہمی کا شیڈول جاری کیا جائے، خراب لائنوں اور پمپنگ نظام کی جانچ کی جائے، سیوریج کے مسائل حل کرنے کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جائیں اور ہاؤسنگ سوسائٹی سمیت پانی کی قلت سے متاثرہ علاقوں میں فوری ریلیف فراہم کیا جائے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ صاف پانی اور نکاسی آب کسی بھی شہر کے بنیادی شہری حقوق اور صحت عامہ کے اہم تقاضے ہیں۔ حیدرآباد کے عوام کو ان بنیادی سہولتوں کی فراہمی یقینی بنانا متعلقہ اداروں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے، جبکہ میئر اور واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی انتظامیہ کو شہریوں کے مسائل کے حل کے لیے فوری، شفاف اور قابلِ عمل اقدامات کرنا ہوں گے

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*