بمپر فصل کے باوجود مہنگا آٹا: سندھ کے عوام کا قصور کیا ہے؟

تحریر: عائشہ رانی

سندھ میں آٹے کا بحران ایک بار پھر غریب آدمی کے دسترخوان تک آ پہنچا ہے۔ ذخیرہ اندوزی کے باعث صوبے میں آٹا 180 سے 200 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے، اور دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنا محنت کش طبقے کے لیے روز بروز مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جس سال گندم کی بمپر فصل ہوئی، اسی سال عوام کو مہنگے آٹے کا سامنا کیوں ہے؟ اطلاعات کے مطابق رواں سال بمپر فصل کے باوجود سندھ حکومت بروقت خریداری کرنے میں ناکام رہی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ صوبائی حکومت اب پاسکو سے مجموعی طور پر 4 لاکھ 90 ہزار میٹرک ٹن گندم خریدنے پر مجبور ہے۔ جو گندم اپنے ہی صوبے کے کاشتکاروں سے مناسب وقت پر خریدی جا سکتی تھی، اس کے لیے اب باہر سے رجوع کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ صورتحال بروقت منصوبہ بندی کے فقدان کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس کا سب سے زیادہ نقصان کاشتکار کو ہوا۔ سرکاری خریداری میں دلچسپی نہ ہونے کے باعث ذخیرہ اندوزوں نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور کاشتکاروں سے کم قیمت پر گندم حاصل کر لی۔ کاشتکار فریاد کرتے رہے، مگر ان کی آواز بروقت سنی نہ جا سکی۔ آج وہی گندم ذخیرہ ہو کر مہنگے آٹے کی صورت میں عوام تک پہنچ رہی ہے، یعنی نقصان کاشتکار کا بھی ہوا اور صارف کا بھی، جبکہ فائدہ بیچ کے لوگوں نے اٹھایا۔ محکمہ خوراک کی کارکردگی پر بھی سنجیدہ سوالات موجود ہیں۔ رپورٹس کے مطابق صرف تین اضلاع، لاڑکانہ، خیرپور اور میٹیاری، میں تقریباً ڈیڑھ ارب روپے کی گندم میں خوردبرد سامنے آئی۔ اس معاملے میں ملوث افسران کو جو سزائیں دی گئیں وہ نسبتاً معمولی ہیں۔ اتنی بڑی رقم کی گندم محض چند افراد کی کارروائی سے غائب ہونا مشکل ہے، اس لیے یہ شبہ بے جا نہیں کہ اس کے پیچھے ایک پوری زنجیر ہو سکتی ہے، اور جب تک پوری زنجیر تک نہ پہنچا جائے، اصل مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اگر بروقت خریداری کی جاتی تو نہ کاشتکار کو بھاری نقصان اٹھانا پڑتا اور نہ آج صوبے میں آٹے کی قلت اور مہنگائی کی یہ صورتحال ہوتی۔ بروقت فیصلے نہ ہونے کی بنیادی وجہ کاشتکار اور کراچی میں بیٹھے فیصلہ سازوں کے درمیان وہ فاصلہ ہے جس کے باعث زمینی حالات کے مطابق فوری فیصلے نہیں ہو پاتے۔ گندم کی خریداری کا فیصلہ ایک دفتر میں بیٹھ کر ہوتا ہے، جبکہ فصل لاڑکانہ، خیرپور، نوابشاہ اور دیگر اضلاع کے کھیتوں میں تیار ہوتی ہے۔ اس مسئلے کا حل اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی میں ہے۔ سندھ کو آج ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جو بااختیار ہو، مقامی لوگوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے، اور جس کے ذریعے حکمرانوں اور عوام کے درمیان فوری اور بروقت رابطہ ممکن ہو۔ یہ تبھی ہو سکتا ہے جب اضلاع کی سطح پر مضبوط انتظامی یونٹس قائم ہوں، جنہیں اپنے علاقے کی فصل، ضرورت اور حالات کے مطابق فیصلے کرنے کا اختیار اور وسائل حاصل ہوں۔ آئین کا آرٹیکل 140A بھی اسی اصول کی بات کرتا ہے۔ انتظامی یونٹس کا قیام سندھ کی زمین یا جغرافیے کی تقسیم نہیں، بلکہ اختیار کی تقسیم ہے، اور آج کے حالات میں یہ ازحد ضروری ہو چکا ہے۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*