
حکومتِ پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی تیاری کے لیے ابتدائی ورچوئل مشاورت کا سلسلہ جاری ہے، جس میں اہم معاشی اہداف طے کیے جا رہے ہیں۔ جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق، آئی ایم ایف نے دو ٹوک مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر کسی قسم کی سبسڈی جاری نہ کی جائے اور آئندہ بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ و رعایتوں کو کم سے کم رکھا جائے۔ عالمی ادارے نے بجٹ میں ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے، سیلز ٹیکس استثنیٰ میں کمی لانے اور حکومتی اخراجات کو مزید کم کرنے کی تجاویز بھی دی ہیں۔ مزید برآں، آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی (Tax-to-GDP) کی شرح میں کم از کم ایک فیصد اضافہ کیا جائے۔ معاشی ماہرین اور حکام کو توقع ہے کہ اگر عالمی حالات میں بہتری رہی اور معاشی اصلاحات پر سختی سے عملدرآمد کیا گیا، تو آئندہ مالی سال کی درمیانی مدت میں ملک کی شرح نمو (Growth Rate) کا ہدف 5.5 فیصد تک رہ سکتا ہے۔ یہ معاشی مشاورت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب حکومت پہلے ہی سرکاری اداروں میں اصلاحات اور ساورن ویلتھ فنڈ پر پابندیوں سے متعلق آئی ایم ایف کے ساتھ تحریری معاہدہ کر چکی ہے۔
