
حیدرآباد(تجزیہ۔راحت کاظمی)متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے اندر جاری اختلافات اور قیادت کے درمیان سرد جنگ نے شہری سندھ، خصوصاً حیدرآباد اور کراچی کے مہاجر ووٹرز میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔سیاسی حلقوں اور کارکنوں میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا موجودہ قیادت مہاجر عوام کی توقعات پر پورا اترنے میں کامیاب رہی ہے یا اب مہاجر سیاست کو ایک نئی سمت اور نئی قیادت کی ضرورت ہے؟شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ برسوں سے مہاجر عوام اپنے بنیادی حقوق، روزگار، تعلیم، صحت، پانی، بجلی، بلدیاتی اختیارات اور شہری ترقی جیسے مسائل کے حل کی امید میں اپنی سیاسی قیادت کا ساتھ دیتے آئے ہیں، لیکن آج بھی بیشتر مسائل اپنی جگہ موجود ہیں۔ ایسے میں جماعت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات نے کارکنوں میں مایوسی کو مزید بڑھا دیا ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کے درمیان اختلافات نے متحدہ قومی موومنٹ کی تنظیمی یکجہتی کو متاثر کیا ہے۔ اگر یہ اختلافات جلد ختم نہ ہوئے تو اس کے اثرات نہ صرف جماعت بلکہ اس کے ووٹر بینک پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔مختلف سیاسی و سماجی حلقوں میں یہ رائے بھی سامنے آ رہی ہے کہ مہاجر سیاست کو ایسی قیادت درکار ہے جو ذاتی گروہ بندی اور اندرونی کشمکش سے بالاتر ہو کر صرف عوامی مسائل اور مہاجر برادری کے آئینی و جمہوری حقوق کے حصول پر توجہ دے۔ ان حلقوں کا مؤقف ہے کہ عوام ایسے نمائندے دیکھنا چاہتے ہیں جو سیاسی مفاہمت یا ذاتی مفادات کے بجائے شہری سندھ کے مسائل کے حل کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ چند ماہ متحدہ قومی موومنٹ کے لیے نہایت اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر قیادت اپنے اختلافات ختم کر کے کارکنوں اور ووٹرز کا اعتماد بحال کرنے میں کامیاب نہ ہوئی تو شہری سندھ کی سیاست میں نئی سیاسی صف بندی اور متبادل قیادت کے امکانات مزید مضبوط ہو سکتے ہیں۔سیاسی مبصرین کے مطابق مہاجر ووٹر کی بڑی خواہش یہی ہے کہ جو بھی قیادت سامنے آئے، وہ اختلافات کے بجائے اتحاد، مؤثر نمائندگی اور عوامی حقوق کے لیے عملی جدوجہد کو اپنی سیاست کا محور بنائے۔
