اسلام آباد میں خود کشی کرنیوالی طالبہ گولڈ میڈلسٹ تھی، دودھ فروش والد نے پلاٹ بیچ کر ایجنٹ کو رقم دی

(10 اکتوبر 2026): اسلام آباد میں گولڈ میڈل حاصل کرنے والی طالبہ کی سڑک کنارے سے لاش برآمد ہونے کے واقعے میں دردناک انکشافات سامنے آئے ہیں۔

اہل خانہ کے مطابق متوفیہ لائبہ نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی سے گولڈ میڈل کے ساتھ بی ایس کی ڈگری مکمل کی تھی اور وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرونِ ملک جانا چاہتی تھی۔

طالبہ کو ایک کنسلٹنٹ نے امریکی یونیورسٹی میں داخلہ دلوانے کا جھانسہ دے کر 70 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا تھا۔ متوفیہ کا والد موٹر سائیکل پر دودھ فروخت کرکے بچوں کے تعلیمی اخراجات پورے کرتا تھا اور خاندان کرایے کے فلیٹ میں مقیم تھا۔

بیٹی کے روشن مستقبل کی خاطر والد نے اپنا پلاٹ فروخت کرکے 21 لاکھ روپے نقد رقم ملزم کے حوالے کی، جبکہ بقایا رقم کے انتظام کے لیے طالبہ کی والدہ کے زیورات بینک میں رہن رکھوائے گئے۔

جب لائبہ نے یونیورسٹی داخلے کے لیے اپنے تعلیمی اور دیگر دستاویزات کی تصدیق کروائی تو معلوم ہوا کہ کنسلٹنٹ کی جانب سے فراہم کیے گئے تمام کاغذی ثبوت جعلی اور فریب پر مبنی تھے۔

فراڈ کے اس شدید صدمے کے بعد طالبہ نے اپنے ماموں کو آخری پیغام میں تحریر کیا کہ میرے ساتھ ہونے والے دھوکے کا علم میرے والد کو نہ ہونے دیا جائے، بصورتِ دیگر وہ یہ صدمہ برداشت نہیں کر سکیں گے۔ اس دلخراش واقعے کے بعد پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*