اسحاق ڈار کا ایرانی وزیرِ خارجہ سے رابطہ، خطے میں محفوظ بحری آمد و رفت کی اہمیت پر زور

دونوں رہنماؤں نے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی 81 ویں جنرل اسمبلی کے موقع پر بھی ملاقات کرنے پر اتفاق کیا ہے

پاکستان کے نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے ہفتے کو ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے، جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی تازہ ترین صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق اسحاق ڈار نے ایرانی ہم منصب سے گفتگو میں پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی اور بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کہ اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا اس معاملے کو ترقی پذیر ممالک اور عالمی سپلائی چینز کے لیے خصوصی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے اس بات پر بھی زور دیا کہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ہی واحد قابلِ عمل راستہ ہیں۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق ہفتے کے روز اسحاق ڈار اور عباس عراقچی کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے قریبی تعاون جاری رکھنے اور نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی 81 ویں جنرل اسمبلی کے موقع پر بھی ملاقات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

اسحاق ڈار اور عباس عراقچی کے درمیان یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب پوری دنیا عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اہم سمندری راستوں ’آبنائے ہرمز‘ اور ’باب المندب‘ میں تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت میں ممکنہ رکاوٹوں پر تشویش کا شکار ہے۔

رواں سال فروری کے آخر میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد سے ایران نے آبنائے ہرمز پر سخت کنٹرول کی وجہ سے اس سمندری راستے سے بحری آمد و رفت شدید متاثر ہیں۔

یمن کے حوثیوں کی جانب سے باب المندب آبنائے کا کنٹرول سنبھالنے اور سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد اس راستے سے ہونے والی عالمی تجارت پر بھی خدشات پیدا ہونے لگے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 81 ویں اجلاس نیویارک میں واقع ’یو این ہیڈکوارٹرز‘ میں 8 ستمبر سے شروع ہوچکا ہے۔

اس اجلاس کا سب سے اہم مرحلہ ’جنرل ڈیبیٹ‘ 22 ستمبر سے 28 ستمبر تک شیڈول ہے، جس میں دنیا بھر کے سربراہانِ مملکت اور اہم عہدیداران شرکت اور خطاب کریں گے۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں ایرانی وفد بھی نیویارک پہنچے گا۔ طے شدہ شیڈول کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان بدھ یعنی 23 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کریں گے۔

امریکی حکومت نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیرِِ خارجہ عباس عراقچی سمیت ایرانی وفد کے دیگر ارکان کو ویزے جاری کرنے کی منظوری دے رکھی ہے۔

ایران اور امریکا کے مابین موجودہ کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ کی صورت حال کے تناظر میں ایرانی وفد کا دورہ نیویارک انتہائی اہم سمجھا جارہا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق ایرانی وزیرِ خارجہ اور صدر کا یہ دورہ سخت سفری پابندیوں کے تحت ہوگا، جس کے مطابق وہ صرف اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر اور اس سے ملحقہ ضروری رہائشی علاقوں تک ہی محدود رہیں گے۔

نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے کل نیویارک پہنچیں گے۔ اس دوران ان کی او آئی سی رابطہ گروپ برائے کشمیر اور ’G-77‘ اجلاس کے علاوہ اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ اجلاس میں بھی شرکت طے ہے۔

وزیراعظم شہبازشریف بھی کل لندن سے نیویارک پہنچیں گے۔ دورہ نیویارک میں اسحاق ڈار کی 15 ممالک کے وزرائے خارجہ سے بھی ملاقاتیں شیڈول ہیں جب کہ وہ مختلف اجلاسوں میں وزیراعظم شہبازشریف کی معاونت بھی کریں گے۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*