
کراچی : آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد نے ہڑتال کی کال پر پورٹ قاسم اور اطراف میں خام خوردنی تیل سے بھرے متعدد ٹینکرزکھڑے کردیئے گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے، بھاری ٹول ٹیکس، بھاری چالان اور جرمانوں کے خلاف آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کی کال پر ملک بھر میں گڈز ٹرانسپورٹرز نے مکمل پہیہ جام ہڑتال شروع کر دی۔
ہڑتال کی حمایت میں پاکستان منی مزدا ایسوسی ایشن اور پاکستان ایڈیبل آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن بھی شامل ہو گئی ہیں۔
کراچی میں پورٹ قاسم اور اطراف میں خام خوردنی تیل سے بھرے متعدد ٹینکرز کھڑے کر دیے گئے ہیں۔
دوسری جانب فیصل آباد میں جھنگ روڈ اور ریلوے مال گودام کے ٹرک اسٹینڈز مکمل طور پر بند ہیں، جس کے باعث دوسرے شہروں کو سامان کی ترسیل رک گئی ہے اور تاجر و بیوپاری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
پنجاب سمیت ملک کے مختلف حصوں میں مال بردار گاڑیاں اڈوں تک محدود ہو گئی ہیں، جس کی وجہ سے صنعتی خام مال اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل کا نظام شدید دباؤ میں آ گیا ہے۔
گڈز ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں، ٹول ٹیکس اور جرمانوں میں فوری نمایاں کمی کی جائے، ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں بے پناہ اضافے کے باوجود مال برداری کے کرائے انتہائی کم ہیں جس کی وجہ سے کاروبار چلانا ناممکن ہو چکا ہے۔
صدر گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد ملک شہزاد اعوان کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کے ساتھ ابتدائی مذاکرات ناکام ہونے کے بعد پہیہ جام کا فیصلہ کیا گیا۔ تاہم مسئلے کے حل کے لیے ٹرانسپورٹ الائنس کی دو الگ الگ ٹیمیں آج وفاقی اور سندھ حکومت کے ساتھ ازسرنو مذاکرات کریں گی۔
اگر حکومت اور ٹرانسپورٹ الائنس کے مابین آج ہونے والے مذاکرات کامیا ب نہ ہوئے تو ہڑتال طول پکڑنے سے ملک بھر میں اشیائے ضروریہ کی شدید قلت پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
