کے ڈی اے لینڈ ڈیپارٹمنٹ کا بڑا کارنامہ، کلفٹن کا اربوں روپے مالیت کا رفاعی پلاٹ ٹھکانے لگا دیا

پلاننگ اینڈ ڈیزائن ڈیپارٹمنٹ کی مخالفت کے باوجود ‘ایمنیٹی پلاٹ PB-1’ رقبہ 4011 اسکوائر گز کو کاغذات میں کمرشل ظاہر کر کے فروخت کرنے کا انکشاف

کراچی (اسٹاف رپورٹر)
ادارہ ترقیات کراچی کے لینڈ کمرشل ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے کلفٹن کے پوش علاقے میں واقع اربوں روپے مالیت کا قیمتی رفاعی پلاٹ غیر قانونی طور پر تجارتی سرگرمیوں کے لیے ٹھکانے لگانے کا سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ سنگین بے ضابطگی کلفٹن میں واقع ایمنیٹی پلاٹ PB-1 کے معاملے میں سامنے آئی ہے، جو کہ ریکارڈ کے مطابق ‘پیکیک بینک’ کو الاٹ کیا گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق جو پبلک بلڈنگ بینک کو الاٹ ہوگی اس پر بینک کہ علاوہ دوسری کوئی اور سرگرمیاں نہیں کی جا سکتی ہے
کے ڈی اے کے اپنے ہی محکمہ پلاننگ اینڈ ڈیزائن (DPUD) نے اپنی انوینٹری اور ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے بعد اس جگہ کو واضح طور پر ‘ایمنیٹی پبلک بلڈنگ’ ہی ظاہر کیا تھا۔ تاہم، کے ڈی اے کے لینڈ کمرشل ڈیپارٹمنٹ نے مبینہ بدعنوانی اور عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس رفاعی پلاٹ کو کاغذات میں "کمرشل” ظاہر کردیا
ماہرین کا کہنا ہے کہ کلفٹن جیسے مہنگے ترین علاقے میں اس درجے کے پلاٹ کی تجارتی مالیت اربوں روپے میں بنتی ہے، جبکہ رفاعی مقاصد کے لیے مختص ہونے کی وجہ سے اس کی سرکاری قیمت انتہائی کم تھی۔ لینڈ کمرشل ڈیپارٹمنٹ کے افسران نے مبینہ طور پر بھاری رشوت کے عوض رفاعی پلاٹ کو کمرشلائز کر کے قومی خزانے کو اربوں روپے کا ٹیکہ لگایا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل بھی گلستان جوہر بلاک 1 کے رفاعی پلاٹ GPC-6 کو بھی کمشل ظاہر کیا تھا جس پر 8 منزلہ عمارت زیر تعمیر ہے
واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے واضح احکامات موجود ہیں کہ کراچی میں کسی بھی ماسٹر پلان کے فلاحی، پارک، یا پبلک بلڈنگ کے پلاٹ کو رہائشی یا کمرشل زمرے میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ کے ڈی اے میں ہونے والی اس مبینہ ہیرا پھیری پر شہریوں اور سماجی حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نیب (NAB)، اینٹی کرپشن اور اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے اور ملوث افسران کے خلاف سخت ترین کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*