
کوئٹہ میں کالعدم تنظیم سے منسلک رہنے والی 2 خواتین نے تہلکہ خیز انکشافات کردیے ہیں۔
کوئٹہ میں کالعدم تنظیم سے منسلک رہنے والی ایک خاتون خدیجہ پیر جان نے کہا کہ تربت کے علاقے تمپ کی رہائشی ہوں، بی ایم سی کالج میں نرسنگ کی پڑھائی کررہی تھی، میرے شوہر حاصل دودا کا تعلق دہشت گرد تنظیم سے تھا۔
خاتون نے بتایا کہ میرے شوہر نے بھائی کو کالعدم تنظیم میں شامل کروالیا، شوہر نے بعد میں مجھے بھی ورغلایا کہ میں ان کے لیے کام کروں۔
خدیجہ پیرجان کے مطابق ری ہیب کے دوران مجھے غلطی کا احساس ہوا میں اپنے کیے پر شرمندہ ہوں۔ بہن بھائیوں سے اپیل ہے کہ ملک کے خلاف کام نہ کریں۔
دوسری خاتون صفیہ عبدالخالق نے کہا کہ کزن اصرار کالعدم تنظیم میں کام کرتا تھا اس نے مجھے بھی شامل کروایا، کالعدم تنظیم کے کمانڈر نے مجھے نیا موبائل دیا، مجھے خودکش حملے کے لیے گاڑی چلانا سکھایا گیا۔
خاتون نے مزید بتایا کہ کالعدم تنظیم والے معصوم بچیوں کو ورغلاتے ہیں، لڑکیوں سے اپیل ہے کہ کسی کے بہکاوے میں نہ آئیں۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر صفیہ نے واضح کیا کہ وہ اس وقت اپنے خاندان کے ساتھ ہیں اور ان پر کسی کا کوئی دباؤ نہیں ہے جبکہ خدیجہ کے والد اور صفیہ کی والدہ پریس کانفرنس میں موجود تھے۔
