
سندھ ہائی کورٹ نے کراچی کے یونیورسٹی روڈ بننے کی تاریخ مانگ لی، ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو اگلی سماعت پر جواب دینے کا حکم دے دیا۔
سندھ ہائی کورٹ میں بی آر ٹی ریڈ لائن لاٹ ٹو کا دفتر سیل کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔
وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ سائٹ پر 6،6 کنٹریکٹرز دندناتے پھر رہے ہیں۔ پتا نہیں کس کس کو کنٹریکٹ دیا جارہا ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ بی آر ٹی ریڈ لائن لاٹ ٹو کا کنٹریکٹ نوٹس پیریڈ ختم ہونے بعد کسی اور کو دیا جائے گا۔ فی الحال لاٹ ٹو پر ڈرینج اور سڑک کی بحالی کا کام دیا گیا ہے۔
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ میڈیا، میئرکراچی اور وزرا کہہ رہے ہیں کہ کنٹریکٹ ختم کردیا گیا ہے، ایف ڈبلیو کو بھی لے آئے ہیں۔
جسٹس نثار احمد بھمبھرو نے ریمارکس دیے کہ یونیورسٹی روڈ شہر کی مرکزی سڑک ہے۔ شہریوں کو مسائل کا سامنا ہے اگر کہیں اور یہ کنٹریکٹ ہوتا تو کب کا ختم ہوچکا ہوتا۔
وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ بی آر ٹی ریڈ لائن کے 16 اسٹیشنز بننے تھے اب تک صرف ایک اسٹیشن کا ڈیزائن ملا ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ سی ای او ٹرانس کراچی کے مطابق ریڈ لائن منصوبہ 2028 میں مکمل ہوگا جس پرعدالت نے تجویر دی کہ تاخیر کس کی وجہ سے ہوئی ہے اس پر کمیشن بنادیں۔
عدالت نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ آئندہ سماعت پر بتائیں کہ یونیورسٹی روڈ کب مکمل ہوگا۔
جس کے بعد سماعت 4 مئی تک ملتوی کردی گئی۔
