کراچی: ملیر کی دیہہ اللہ پھائی میں 3 ہزار ایکڑ سرکاری اراضی پر مبینہ قبضے، فارم ہاؤسز اور ہاؤسنگ سوسائٹیز کے قیام کے خلاف 60 افراد پر مقدمہ درج

ملیر (نامہ نگار) کراچی کے ضلع ملیر کی دیہہ اللہ پھائی میں سروے نمبر 28 پر واقع تقریباً 3 ہزار ایکڑ سرکاری اراضی پر مبینہ قبضے کرکے فارم ہاؤسز اور ہاؤسنگ سوسائٹیز قائم کرنے کے معاملے پر گڈاپ تھانے میں 60 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ مقدمہ مختیارکار سب ڈویژن شاہ مراد عبدالرشید کاکا کی مدعیت میں درج کیا گیا مقدمے میں محمد صالح خاصخیلی، پرائم انویسٹمنٹ اور میمن فارم ہاؤس سے وابستہ عابد ولد محمد حسن عرف ملک میاں، ٹاؤن میونسپل کارپوریشن (ٹی ایم سی) گڈاپ کے جونیئر کلرک آصف مینگل ولد محمد حسن، انور خاصخیلی اور یاسین خاصخیلی سمیت 60 افراد کو نامزد کیا گیا ہے مدعی کے مطابق دیہہ اللہ پھائی کے سروے نمبر 28 پر واقع تقریباً 3 ہزار ایکڑ سرکاری اراضی پر مبینہ طور پر قبضے کرکے وہاں فارم ہاؤسز اور ہاؤسنگ سوسائٹیز قائم کی جارہی ہیں۔ اس معاملے میں سرکاری اراضی کی ملکیت، استعمال اور مبینہ قبضے کی قانونی حیثیت سے متعلق اہم سوالات سامنے آئے ہیں مختیارکار کی مدعیت میں مقدمہ درج ہونے کے بعد معاملہ قانونی کارروائی کے دائرے میں آگیا ہے۔ اس حوالے سے اراضی کے ریونیو ریکارڈ، ملکیتی دستاویزات، سروے نمبرز اور مبینہ طور پر قبضے میں لی گئی زمین کی حدود کی جانچ پڑتال اہمیت رکھتی ہے، تاکہ حقائق کا تعین کیا جاسکے۔ سرکاری اراضی عوامی ملکیت ہوتی ہے، اس لیے اس کا تحفظ اور قانونی استعمال یقینی بنانا متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے۔ مقدمے کی شفاف تحقیقات کے ذریعے یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ آیا سرکاری زمین پر غیرقانونی قبضہ کیا گیا اور اس معاملے میں کون کون ملوث ہے۔ واضح رہے کہ مقدمے میں نامزد افراد کے خلاف الزامات کی حتمی تصدیق تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی ہوسکے گی۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*