کراچی : سہراب رند گوٹھ سے ملنے والی جلی ہوئی لاش کا معمہ حل ہوگیا ، واقعے میں سسرالی ملوث نکلے۔

کراچی : سہراب رند گوٹھ سے ملنے والی جلی ہوئی لاش کا معمہ حل ہوگیا ، واقعے میں سسرالی ملوث نکلے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے موچکو، سہراب رند گوٹھ سے دو ہفتے قبل ملنے والی جلی ہوئی لاش کا معمہ پولیس نے حل کر لیا۔

ایس ایس پی انویسٹی گیشن مسرور احمد جتوئی نے بتایا کہ مقتول کے سسرالی ہی اس کے قتل میں ملوث نکلے، جنہیں گرفتار کر کے آلہ قتل برآمد کر لیا گیا ہے۔

ایس ایس پی مسرور احمد جتوئی کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان کی شناخت مقتول کے سسر اکرم اور سالے عطاء اللہ کے ناموں سے ہوئی ہے۔

کیماڑی انویسٹی گیشن پولیس کی خصوصی ٹیم نے تکنیکی بنیادوں پر کارروائی کرتے ہوئے ان ملزمان کو ٹریس کیا اور آلہ قتل (بیلچہ) بھی برآمد کر لیا۔

دورانِ تفتیش ملزمان نے اعترافِ جرم کرتے ہوئے مقتول کو قتل کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا مقتول فیضان عرف فیضی نے بیٹی سے پسند کی شادی کی تھی، جس کے بعد فیضان نے ان کی بیٹی کو زبردستی مانع حمل ادویات کھلائیں جس سے اس کی موت واقع ہو گئی تھی۔

ملزمان کو اس بات کا بھی شدید رنج تھا کہ پہلی بیٹی کے انتقال کے بعد فیضان نے ان کی دوسری بیٹی سے بھی رابطہ قائم کر لیا تھا۔

ملزمان نے بدلہ لینے کے لیے فیضان کو بہانے سے بلایا اور بیلچے کے پے در پے وار کر کے اسے قتل کر دیا۔ جرم چھپانے کی خاطر ملزمان نے نعش پر پیٹرول چھڑک کر اسے آگ لگا دی تاکہ شناخت نہ ہو سکے۔

پولیس کے مطابق برآمد ہونے والی نعش مکمل طور پر سوختہ (جلی ہوئی) تھی۔

واقعے کا مقدمہ تھانہ موچکو میں نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کیا گیا تھا۔ ایس ایس پی انویسٹی گیشن کے مطابق مقتول کی شناخت فیضان عرف فیضی کے نام سے ہوئی ہے۔

ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ واقعے کے دیگر محرکات کو مکمل طور پر بے نقاب کیا جا سکے۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*