
کراچی کی 80فیصد سڑکیں اپنا وجود کھوچکی ہیں مگر ان تما م شاہراہوں میں سب سے اذیت ناک اور شائد باعث شرم سڑک ایم اے جناح روڈ اور شاہراہ پاکستان کی تباہ حالی ہے،جس شخص نے ملک بناکر دیا اس کے نام پر بنی سڑک اب سڑک کے نام پر دھبہ ہے جس سڑک کو بانی پاکستان کے نام سے منسوب ہونے پر ماڈل شاہراہ بنانا تھا اسے سندھ کے حکمرانوں نے شہریوں کیلئے عبرت کا نشان بنادیا ،لاکھوں شہری اس سڑک پر سفر کرتے وقت جس اذیت کا سامنا کرتے ہیںوہ بڑی گاڑیوں میں پوش علاقوں میں گھومنے والے حکمران نہیں کرسکتے، اب ایم اے جناح روڈ شاہراہ نہیں ایک پتلی گلی بن چکی ہے،جس میں ایک گاڑی گذر رہی ہو تو دوسری گاڑی کو اوورٹیک کرنے میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے ،دوسری جانب اس ملک کے نام پر بنی شاہراہ جو کہ شاہراہ پاکستان کہلاتی ہے ،گرومندر سے شروع ہونے والی ابتداء میں جہانگیرروڈ کیکھنڈرات میں دھکیل دیتی ہے ، کھنڈرات سے الجھتے شہری جب تین ہٹی پہنچتے ہیں تو دونوں جانب شاہراہ کے درمیان پتھارے جو کہ غیر مقامی جمائے ہوئے ہیں استقبال کرتے ہیں ٹریفک کتنا جام ہوتا ہے اس سے کسی کو غرض نہیں،کچرے کے انبار بھی دونوں اطراف نظر آئینگے،آگے چل کر لیاقت آباد ڈاکخانہ سے آپ گذر کر دکھائیں تجاوزات اور پتھاروں کا انبار ہوگا کھنڈر بنی سڑک سے گذر کر لیاقت آباد دس نمبر پر بھی یہی صورتحال ہوگی،کریم آباد پر پتھارے کھنڈر بنی سڑک پر موجود ہیں تو عائشہ منزل پر بھی تجاوزات استقبال کیلئے موجود ہیں واٹرپمپ پر بھی تجاوزات شہریوں کا استقبال کررہی ہیں ،شہریوں کا کہنا ہے اس ملک کے نام پر بنی شاہراہ کا بھی وہی حال کیا گیا ہے جوکہ حکمرانوں نے اس ملک کا کیا ہے ،قوم منتظر ہے کوئی محمد بن قاسم سندھ میں دوبارہ آئے تو شائد یہاں کی صورتحال بہتر ہوسکے۔
