کراچی: ایس بی سی اے کے معطل افسر ریاض مللا سمیت 3 افراد کے خلاف مبینہ بھتہ خوری کا مقدمہ درج

بلڈر سے 30 لاکھ روپے بھتہ طلب کرنے اور رقم نہ دینے پر گھر خالی کروا کر مسمار کرنے کی دھمکیاں دینے کا الزام، پولیس نے مقدمہ درج کرلیا

کراچی (رپورٹ: اے آر ملک) — سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کے معطل افسر ریاض مللا کے خلاف مبینہ بھتہ خوری کا ایک اور معاملہ سامنے آیا ہے۔ بلڈر ندیم ظفر کی مدعیت میں ریاض مللا، طارق اور منظور سمیت تین افراد کے خلاف مبینہ طور پر 30 لاکھ روپے بھتہ طلب کرنے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے الزام میں ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے۔

مدعی ندیم ظفر نے اپنے مؤقف میں بتایا کہ وہ گزشتہ پانچ سال سے متعلقہ مقام پر رہائش پذیر ہیں، جبکہ وہاں موجود تعمیرات بھی تقریباً پانچ سال پرانی ہیں۔ ان کے مطابق نامزد افراد کی جانب سے مبینہ طور پر 30 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا اور رقم کی ادائیگی کے لیے مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا تھا۔

مدعی نے الزام عائد کیا کہ رقم ادا نہ کرنے کی صورت میں انہیں گھر خالی کرانے اور تعمیرات مسمار کرنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ صورتحال کے پیش نظر انہوں نے پولیس سے رجوع کیا، جس کے بعد تین افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔

ریاض مللا پر ماضی میں بھی الزامات

ریاض مللا کے حوالے سے ماضی میں بھی مبینہ بھتہ خوری اور نام نہاد پٹہ سسٹم سے وابستگی کی شکایات سامنے آنے کا دعویٰ کیا جاتا رہا ہے۔ ان پر اورنگی ٹاؤن سمیت مختلف علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات سے متعلق معاملات میں مبینہ مداخلت کے الزامات بھی عائد کیے جاتے رہے ہیں۔

تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق اور سابقہ مقدمات کی موجودہ قانونی حیثیت واضح ہونا باقی ہے۔

کراچی میں مبینہ پٹہ سسٹم اور غیر قانونی تعمیرات پر سوالات

دوسری جانب کراچی کے مختلف علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات اور مبینہ پٹہ سسٹم کے حوالے سے شکایات مسلسل سامنے آ رہی ہیں۔ شہری حلقوں کی جانب سے سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات کی روک تھام اور متعلقہ قوانین پر عمل درآمد کے لیے مؤثر اقدامات کیوں نہیں کیے جا رہے۔

اس صورتحال میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کی نگرانی اور احتساب کے نظام پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

متعلقہ حکام سے شفاف تحقیقات کا مطالبہ

تازہ مقدمے کے اندراج کے بعد یہ معاملہ ایک مرتبہ پھر متعلقہ حکام کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ درج شدہ ایف آئی آر میں عائد الزامات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں اور شواہد کی بنیاد پر قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔

اس خبر کی تیاری تک نامزد افراد کا مؤقف سامنے نہیں آیا، جبکہ مقدمے کے اندراج کو الزامات ثابت ہونے کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا۔

رپورٹ: اے آر ملک | روزنامہ قومی اخبار، کراچی

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*