کراچی: شپ اونرز کالج میں اساتذہ کو ہراساں کیے جانے کا انکشاف؛ سپلا کی امتحانی عمل سے بائیکاٹ کی دھمکی

دھمکیوں اور عدم تحفظ کے سائے میں امتحانات نہیں لے سکتے

امتحانی عمل سے علیحدگی پر مجبور کیا جا رہا ہے، پروفیسر منور عباس

شپ اونرز کالج میں پولیس کی موجودگی میں ایک لسانی طلبا تنظیم کے نام پر ہراساں کئے جانے کا عمل افسوس ناک ہے، پروفیسر آصف منیر

کراچی(اسٹاف رپورٹر )

ایک لسانی طلبہ تنظیم کے نام سے اساتذہ کو مستقل ہراساں کئے جانے کی شکایت کے بعد سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچرارز ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر منور عباس نے، صدر کراچی ریجن پروفیسر آصف منیر، مرکزی مالیات سکریٹری حسن میر بحر، ریجنل جنرل سیکریٹری نہال اختر، پریس سیکرٹری محمد حیدر سمیت دیگر ذمہ داران اور سپر ویجیلنس ٹیموں کے ہمراہ شپ اونرز کالج کا دورہ کیا۔ سپلا وفد کو پرنسپل اور کالج اساتذہ نے آگاہ کیا کہ روزانہ پیپر سے قبل، پیپر امتحان اور پیپر کے بعد میں یہ غنڈہ گرد عناصر کالج میں زبردستی داخل ہو کر نقل کروانے کے لیے اساتذہ پر دباؤ ڈالتے ہیں اور انکار پر ان کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ وفد کو یہ بھی بتایا گیا کہ یہ عناصر امتحانی مرکز میں داخل ہونے سے قبل مبیّنہ طور پر طلبا سے نقل کروانے کے عوض پانچ سے دس دس ہزار روپے بھی وصول کرتے ہیں۔ اس موقع پر مرکزی صدر پروفیسر منور عباس نے پرنسپل، اساتذہ اور تمام اسٹاف کو اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا اور اتنی زیادہ بیرونی مداخلت کے باوجود ان کی نقل مافیا کے خلاف استقامت پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پولیس اور سکیورٹی انتظامیہ نے تعاون نہ کیا تو پورے کراچی میں امتحانی عمل سے لا تعلقی کر دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ چیئرمین جناب فقیر محمد لاکھو صاحب مکمل تعاون کر رہے ہیں لیکن پولیس انتظامیہ نے اساتذہ کو ان بیرونی غنڈہ عناصر کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ مرکزی صدر کا کہنا تھا کہ سندھ کے متعدد شہروں بشمول نواب شاہ کالج میں کہ جہاں دورانِ امتحانات ایک کالج استاد کو لہو لہان کر دیا۔ گزشتہ سال بھی اسی گروہ نے سراج الدولہ گورنمنٹ کالج کے ایک سینئر پروفیسر انور راجپوت کو اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ اس طرح کے واقعات تشویش کا باعث ہیں۔ پروفیسر منور عباس کا کہنا تھا کہ اگر حساس امتحانی مراکز میں اساتذہ کو تحفظ فراہم نہ کیا گیا تو امتحانات کے عمل سے علیحدگی کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*