
کراچی (11 اگست 2026): میر رضا علی کیس کے سلسلے میں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی بینظیر کے قاتلوں کو نہ پکڑ سکی یہ عوام کو کیا انصاف دلائے گی؟
حافظ نعیم الرحمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میر رضا علی کیس میں سندھ پولیس کا پورا سسٹم ایکسپوز ہوگیا، کسی کا دباؤ ہے تو اس کو سامنے آنا چاہیے۔
پیٹرول کی قیمت میں کمی کے حوالے سے امیر جماعت اسلامی پاکستان نے کہا کہ جو لوگ سوال کرتے ہیں کہ پیٹرول کی قیمت کیسے کم ہوگی ان سے گزارش ہے کہ وہ ذرا پڑھ لیا کریں، جہالت پر مبنی بیانات دینے سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا، 80 روپے لیوی کا پیٹرولیم کی قیمت سے کیا تعلق؟
انہوں نے کہا کہ ایک خاص قسم کا طبقہ مراعات لیتا ہے باقی لوگ پریشان رہتے ہیں، موجودہ حکومت نے ایک سال میں 1900 ارب روپے لیوی کی مد میں وصول کیے، لیوی کی قیمتیں ایسے بڑھاتے ہیں جیسے ان کے گھر کی حکومت ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہا کہ لوگوں کو امن مل رہا ہے اور نہ روزگار یہ سسٹم نااہلی کا ایک شاہکار ہے، سسٹم کی ناکامی کا اعتراف کرنے سے کچھ نہیں ہوگا اقدامات بھی کرنا ہوں گے، آمروں کے کون سہولت کار رہے اور کون الیکشن پر قابض رہے سامنے آنا چاہیے، پتا چلنا چاہیے کہ کون کس کے ذریعے ایوانوں میں آتے ہیں، 2014 اور کراچی کے بلدیاتی الیکشن میں عوام کی رائے کے مطابق حکومتیں نہیں بنیں، لوگوں کی مرضی کے مطابق فیصلے نہیں کریں گے تو اعتماد کا بحران پیدا ہو جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کی مرضی کو اہمیت نہیں دیں گے تو پھر سسٹم ناکام ہی ہوگا اعتراف سے کچھ نہیں ہوگا، اب اعتراف سے کچھ نہیں ہوگا اس ناکام سسٹم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہوگا، کسی بھی سسٹم کیلیے آئین کو مقدم رکھا جائے اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔
