
وقت کے ساتھ ساتھ سب کچھ بدل رہا ہے۔ لیکن ایک چیز آپ نے ضرور محسوس کی ہوگی کہ لوگ اب ماضی کو زیادہ یاد کرنے لگے ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے وقت بہت بدل چکا ہے۔ ٹیکنالوجی نے انسان کو ایسی بے شمار سہولتیں دے دی ہیں جن کی مدد سے وہ گھنٹوں، دنوں بلکہ مہینوں اکیلا وقت گزار سکتا ہے۔ موبائل، ٹی وی، لیپ ٹاپ، انٹرنیٹ اور ان پر موجود مواد کا سمندر، جو شاید انسان کبھی مکمل طور پر دیکھ ہی نہ سکے۔
لیکن اسی سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دور میں آپ یہ بھی دیکھتے ہوں گے کہ لوگ پرانے دور کو بہت یاد کرتے ہیں۔ پرانے گانے، پرانی فلمیں، پرانے ڈرامے، پرانے کھیل، پرانے وڈیو گیمز اور پرانے دوست۔ سوشل میڈیا پر اکثر لوگ پی ٹی وی کے پرانے ڈراموں کے کلپس شیئر کرتے ہیں اور ساتھ لکھتے ہیں کہ کیا شاندار ڈرامے ہوتے تھے، کیا خوبصورت کہانیاں ہوتی تھیں۔
حقیقت یہ ہے کہ وہ سب واقعی بہترین تھے، کیونکہ ہمارا بچپن بہترین تھا۔ اسکول سے آنا، مدرسے جانا، پھر واپس آ کر شام کو چائے کے ساتھ پاپڑ یا کیکرز کھاتے ہوئے کارٹون دیکھنا، اس کے بعد ٹیوشن جانا، اور رات آٹھ بجے سونا۔ اس وقت ہماری دنیا صرف اسکول، کتابوں اور ٹی وی تک محدود تھی۔ ہمیں وہ معلومات نہیں تھیں جو آج کے بچوں کو انٹرنیٹ پر آسانی سے مل جاتی ہیں۔
ہماری دوستیاں مضبوط تھیں، ہمارے کھیل ہمیں تھکا دیتے تھے۔ آج کے بچوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ان کا بہترین دوست بس ان کے ہاتھ میں پکڑا موبائل یا ٹیبلٹ ہے۔ ہم عینک والا جن اور دوسرے بچوں کے پروگرام دیکھتے تھے اور محلے کے دوستوں کے ساتھ ہر کھیل کھیلا کرتے تھے۔ جب گھر میں پہلی بار کمپیوٹر آیا تو اسے بند کرنے کے بعد بھی ہم اسے دیکھتے رہتے تھے، کیونکہ وہ ہمارے لئے ایک نئی اور نایاب چیز تھی۔
ہم نے وہ بچپن جیا ہے، اسی لئے آج کہیں نہ کہیں ہم اس معصومیت کو یاد کرتے ہیں۔ وہ پرانا گھر، پرانے دوست، پرانے گھر کی دیواریں، پرانا محلہ، بہن بھائیوں کے ساتھ گزارا ہوا ہر لمحہ، سب بہت یاد آتا ہے۔
اسی لئے کہتا ہوں کہ وہ دور واقعی بہترین تھا۔ آج ٹیکنالوجی نے رابطے آسان کر دیے ہیں۔ چاہے دوست سات سمندر پار ہی کیوں نہ ہو، ویڈیو کال پر ایسے بات ہو جاتی ہے جیسے سامنے بیٹھا ہو۔ لیکن پھر بھی وہ بات، وہ احساس اب نہیں رہا۔
ہم بار بار ماضی کو یاد کرتے ہیں اور خیالات میں ایسے کھو جاتے ہیں جیسے پھر اسی دور میں جی رہے ہوں۔ لیکن ہمیں یہ بھی سیکھنا چاہئے کہ آج جو زندگی ہمارے پاس ہے، اسے بھی بھرپور طریقے سے جئیں۔ جو کچھ آج ہمارے پاس ہے، اس میں خوش رہنے کی کوشش کریں۔ کیا پتا، آنے والے وقت میں حالات اور بدل جائیں، اور پندرہ یا بیس سال بعد ہم آج کے اس دور کو بھی یاد کر رہے ہوں۔
لیکن ایک بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ انسان کو اپنی جڑوں سے جڑے رہنا چاہئے اور کبھی یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ اس کی پہچان اور اس کی بنیاد کہاں سے جڑی ہوئی ہے۔
علی قاسم – کراچی
