پاکستان کی تاریخی شراب مری بریوری کو برآمدات کی اجازت: 50 سالہ پابندی ختم کر دی

پاکستان کی سب سے قدیم اور بڑی شراب کشید کرنے والی کمپنی ‘مری بریوری’ ایک بار پھر عالمی منڈیوں میں اپنی مصنوعات فروخت کرنے کے لیے تیار ہے، کیونکہ حکومت نے تقریباً 50 سال سے عائد برآمدی پابندی ختم کر دی ہے۔ مری بریوری، جو 1860 میں برطانوی دورِ حکومت میں فوجیوں کی پیاس بجھانے کے لیے قائم کی گئی تھی، کئی دہائیوں کی سخت ریگولیشنز اور مخالفت کے باوجود ملک کی مشہور ترین کمپنیوں میں سے ایک بن کر ابھری ہے۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو، اسفندیار بھنڈارا نے اس فیصلے کو ایک خوش آئند سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے دادا اور والد بھی اس لائسنس کے حصول کی کوشش کرتے رہے تھے لیکن ایک اسلامی ملک ہونے کے ناطے انہیں کامیابی نہیں مل سکی تھی۔

This photograph taken on December 17 shows Isphanyar Bhandara, Murree Brewery’s Chief Executive Officer (CEO) speaking during an interview with AFP in Rawalpindi. — AFP



اسفندیار بھنڈارا، جو کہ پارسی کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں اور قومی اسمبلی کے رکن بھی ہیں، نے بتایا کہ 2017 میں ایک چینی کمپنی کو پاکستان میں بیئر بنانے کی اجازت ملنے پر انہیں حیرانی ہوئی، جس کے بعد انہوں نے برآمدات پر عائد پابندی ہٹانے کے لیے برسوں تک کوششیں کیں۔ مری بریوری کی سالانہ آمدنی 10 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جس کا آدھا حصہ الکوحل اور باقی نصف غیر الکحل مشروبات سے حاصل ہوتا ہے۔ اب کمپنی کی نظریں یورپ، ایشیا اور افریقہ کی منڈیوں پر ہیں، جہاں وہ اپنی مصنوعات متعارف کرا کے بین الاقوامی سطح پر اپنی برانڈ کی تشہیر کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ابھی ہدف صرف منافع کمانا نہیں بلکہ نئی منڈیوں کی تلاش ہے، تاکہ دنیا کو اس تاریخی کمپنی کے معیار سے روشناس کرایا جا سکے۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*