
کراچی: (خصوصی رپورٹ) پاکستان کی تاریخ کے بڑے مالیاتی اسکینڈل میں کسٹمز ایڈجیوڈیکیشن اتھارٹی نے 13 جعلی سولر پینل امپورٹ کمپنیوں پر مجموعی طور پر 111 ارب روپے کا ریکارڈ جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یہ کمپنیاں منی لانڈرنگ اور اوور انوائسنگ جیسے سنگین مالی جرائم میں ملوث پائی گئیں، جس نے کاروباری حلقوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں کھلبلی مچا دی ہے۔
ایڈجیوڈیکیشن کی کارروائی ڈاکٹر ارم زہرہ کی سربراہی میں مکمل ہوئی، جس کے نتیجے میں تجارتی بنیادوں پر کی جانے والی منی لانڈرنگ کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کو ایک فیصلہ کن پیش رفت ملی ہے۔ ان کمپنیوں کا وجود صرف کاغذوں تک محدود تھا، جبکہ ان کے مالکان فرضی اور غیر موجود تھے۔ ان جعلی کمپنیوں نے مبینہ طور پر 120 ارب روپے کی درآمدات کے نام پر جعلی انوائسز کے ذریعے غیر قانونی ترسیلات کو جائز ظاہر کیا۔
جرمانہ وصول کرنے والی کمپنیاں درج ذیل ہیں:
• برائٹ اسٹار بزنس سلوشن، پشاور — 53 ارب روپے
• مون لائٹ ٹریڈرز (SMC)، پشاور — 21 ارب روپے
• اسمارٹ امپورٹ ایکس، کوئٹہ — 1.4 ارب روپے
• احسان امپورٹر اینڈ ایکسپورٹر، کوئٹہ — 2 ارب روپے
• اسدعلی انٹرپرائزز، کوئٹہ — 1 ارب روپے
• ایس ایچ ٹریڈرز — 1.2 ارب روپے
• ڈیلٹا ٹریڈنگ کمپنی، اسلام آباد — 2.6 ارب روپے
• سحر انٹرنیشنل — 1.7 ارب روپے
• اسکائی لنکر بزنس چین — 2 ارب روپے
• اسکائی لنکرز ٹریڈنگ کمپنی — 8.6 ارب روپے
• پاک الیکٹرانکس — 0.5 ارب روپے
• رائل زون پرائیویٹ لمیٹڈ — 16 ارب روپے
• سولر سائٹ پرائیویٹ لمیٹڈ — 7.7 ارب روپے
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ان کمپنیوں کے بینک اکاؤنٹس میں 140 ارب روپے کی مشکوک رقم جمع ہوئی، جن میں 45 ارب روپے نقد شامل تھے، جبکہ ان کمپنیوں کی کوئی حقیقی کاروباری سرگرمی موجود نہیں تھی۔ ان کے سیلز ٹیکس گوشواروں میں 85 ارب روپے کی فرضی مقامی فروخت ظاہر کی گئی، جس کے لیے جعلی خریداروں کے نام استعمال کیے گئے۔
مزید برآں، درآمد کی گئی سولر پینلز کی قیمت 120 ارب روپے ظاہر کی گئی، جبکہ ان کی مقامی فروخت محض 85 ارب روپے میں ظاہر کی گئی، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اوور انوائسنگ کے ذریعے غیر ملکی زرِمبادلہ کو ناجائز طریقے سے باہر بھیجا گیا۔
پی سی اے ساؤتھ کی جانب سے ان کمپنیوں کے خلاف 13 ایف آئی آرز درج کی گئیں، جن میں 45 افراد بشمول جعلی مالکان اور سہولت کار نامزد کیے گئے۔ بارہا طلب کیے جانے کے باوجود کوئی بھی ملزم ایڈجیوڈیکیشن اتھارٹی کے سامنے پیش نہ ہوا، جس پر اتھارٹی نے 111 ارب روپے کے مالی جرمانے کے ساتھ ساتھ 4 کروڑ 50 لاکھ روپے کے ذاتی جرمانے بھی عائد کیے۔
مزید کارروائی کے تحت، سولر سائٹ پرائیویٹ لمیٹڈ کی ملکیت 327 کنٹینرز مختلف بندرگاہوں پر ضبط کر لیے گئے، جن کی نیلامی سے حکومت کو 1.5 ارب روپے کی آمدن کی توقع ہے۔
وزیراعظم آفس میں ایک اعلیٰ اختیاراتی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ یہ کمیٹی بینکنگ، کسٹمز، ایس ای سی پی، ایف بی آر، ایف ایم یو اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار اور ممکنہ ملی بھگت کی چھان بین کر رہی ہے۔ توقع ہے کہ کمیٹی کی رپورٹ بین الادارہ جاتی اشتراک اور مالیاتی جرائم کی روک تھام کے لیے اہم سفارشات فراہم کرے گی۔
پاکستان اس وقت شدید مالیاتی بحران سے دوچار ہے، اور یہ کیس نہ صرف ملک کی معیشت کو لاحق خطرات کو بے نقاب کرتا ہے بلکہ یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ ریاستی ادارے ان جرائم کا مقابلہ کرنے کے لیے مستعد اور پرعزم ہیں۔
