
اسلام آباد (10 مارچ 2026): عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے پاکستان پر سفری پابندیاں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، پاکستان پر عائد مشروط عالمی سفری پابندیوں میں 3 ماہ کی توسیع کر دی گئی۔
ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ پاکستان کی پولیو سے متعلق سرویلنس مزید تین ماہ جاری رہے گی، بیرون ملک جانے والوں کی پولیو ویکسینیشن لازم ہوگی، ڈبلیو ایچ او 3 ماہ بعد انسداد پولیو کے لیے پاکستانی اقدامات جائزہ لے گا۔ یاد رہے کہ پاکستان پر پولیو کی وجہ سے سفری پابندیاں مئی 2014 میں عائد ہوئی تھیں۔
ڈبلیو ایچ او ایمرجنسی کمیٹی برائے پولیو نے پاکستان پر پابندیوں میں توسیع کی سفارش کی تھی، اس کمیٹی کا 44 واں اجلاس 14 جنوری کو ہوا تھا، جس میں پولیو سے متاثرہ ممالک کے حکام نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی تھی، اور پولیو وائرس کے عالمی پھیلاؤ کی صورت حال پر غور کیا گیا تھا۔
ڈبلیو ایچ او نے اجلاس کے اعلامیے میں کہا ہے کہ کمیٹی نے پاکستان میں پولیو کی صورت حال اور حکومتی اقدامات پر غور کیا، اور دیکھا کہ پاکستان اور افغانستان پولیو وائرس کے عالمی پھیلاؤ کے لیے بدستور خطرہ ہیں اور دونوں ممالک پولیو وائرس کے عالمی پھیلاؤ کے ذمہ دار ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق پاکستان، افغانستان پولیو سے متعلق ایک دوسرے کے لیے بھی خطرہ ہیں، ان ممالک میں وائلڈ پولیو وائرس (ڈبلیو پی وی ون) کا پھیلاؤ قابل تشویش ہے، اعلامیے میں کہا گیا کہ عالمی سطح پر یہ وائرس پاکستان اور افغانستان تک محدود ہے، اور ان میں باہمی آمدورفت پھیلاؤ کا اہم ذریعہ ہے۔ تاہم عالمی ادارہ صحت نے کہا کہ 2025 میں پاک افغان سرحد سے پولیو کی منتقلی میں کمی آئی ہے۔
پاکستان میں 31 پولیو کیس
ڈبلیو ایچ او کے مطابق پاکستان کے چاروں صوبوں کی سیوریج میں پولیو پایا گیا ہے تاہم پاک، افغان پولیو کی منتقلی کوئٹہ بلاک، کے پی سے جاری ہے، گزشتہ سال پاکستان میں 31 پولیو کیس سامنے آئے، اور 608 سیوریج سیمپلز پازیٹو نکلے، جنوبی خیبرپختونخوا میں پولیو وائرس کا پھیلاؤ بھی بدستور جاری ہے، جب کہ 2025 میں کراچی سے وائلڈ پولیو وائرس ون کا کیس رپورٹ نہیں ہوا۔
عالمی ادارہ صحت نے پاکستان میں انسداد پولیو کے اقدامات پر اظہار اطمینان کیا، اور پولیو مہم کے معیار اور کوریج ریٹ کی تعریف کی اور اس پر اعتماد کا اظہار کیا۔ اور کہا کہ پاکستان میں صوبائی اور علاقائی سطح پر موثر پولیو مہمات جاری ہیں تاہم پاک افغان سرحدی اضلاع میں مؤثر پولیو مہمات نہیں چلائی گئیں، کوئٹہ بلاک، جنوبی کے پی میں پولیو مہم بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق جنوبی کے پی میں تمام بچوں تک رسائی کا چیلنج درپیش ہے، خیبرپختونخوا میں ڈھائی لاکھ بچے پولیو ویکسین سے محروم ہیں، جہاں مہم کے لیے سیکیورٹی صورت حال بہتر نہیں ہے۔
کراچی کا ڈیٹا قابل اعتماد نہیں
ڈبلیو ایچ او نے کراچی میں وائلڈ پولیو وائرس کی مسلسل موجودگی پر تشویش کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کی پولیو مہمات کا ڈیٹا قابل اعتماد نہیں ہے، ویکسین سے محروم بچوں کی تعداد حکومتی ڈیٹا سے زائد ہے۔
پاکستان پولیو کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ٹیگ کی سفارشات پر عمل کرے، جنوبی خیبرپختونخوا، کوئٹہ بلاک پولیو کے حوالے سے حساس ہیں، وسطی ایریاز، جنوبی کے پی، کوئٹہ بلاک میں ڈبلیو پی وی ون پھیل رہا ہے۔ پاکستان پولیو کے حساس علاقوں میں مؤثر مہمات کا انعقاد یقینی بنائے اور دونوں پڑوسی ممالک میں پولیو کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنا ہوں گے، تمام بچوں تک رسائی ناگزیر ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے اعلامیے میں کہا کہ پاکستان اور افغانستان میں لو ٹرانسمیشن سیزن میں ہائی کوالٹی پولیو مہم چلانا ہوں گی، اور دونوں ممالک کو مل کر کام کرنا ہوگا، پاک افغان باہمی تعاون کا فروغ ناگزیر ہے۔
