وزیر اعظم کا 3 گھنٹے کا دورہ کراچی اور تال پور ہاؤس آمد، محترمہ فریال تال پور کو بیٹی کی شادی پر مبارک باد اور داماد سے ملاقات


کراچی (آغاخالد)

گزشتہ روز وزیر اعظم شہباز شریف محترمہ فریال تال پور کے گھر پہنچے اور انہیں ان کی بیٹی عائشہ کی شادی پر مبارکباد دی موجودہ سنگین حالات میں وزیر اعظم کا 3 گھنٹے کا دورہ کراچی بہت اہمیت کا حامل ہے اور ایسے دورے ضرورت حالات سے زیادہ تراشیدہ ہوتے ہیں وزیر اعظم جب تال پور ہائوس پہنچے تو اس سے قبل (خاص پیغام پر) ان کے داماد سید شبیہ علی اور ان کی اہلیہ دوبئی سے کراچی پہنچ چکے تھے جن کی شبھ گھڑی کی اس خاص محفل میں مہورت کروائی گئی یہ تقریب سعید اس بات کی آئینہ دار ہے کہ سید شبیہ علی مستقبل کی سیاست و حکومت میں اہم کردار کے لیے منتخب کرلیے گئے ہیں، اس طرح پارٹی میں محترم بلاول بھٹو اور محترمہ آصفہ بھٹو کے بعد یہ تیسرے نوجواں قیادت کا حصہ ہوں گے، یہ اہم تبدیلی ہے جسے دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی محسوس کرنا اور اپنانا چاہیے کیونکہ گزشتہ 20 سالوں میں آنے والی تیز رفتار سائنسی ترقی نے جدید دنیا کے معاشرہ کو جھن جوڑ کر رکھ دیاہے اور نئی اور پرانی نسل میں بظاہر یک دہائی کا فرق صحی مگر در حقیقت ذہنی فاصلہ آدھی صدی سے زیادہ مانا جارہاہے یہ ناراض نئی نسل ضدی، ہٹ دھرم، خود سر اور رد عمل میں بے لگام سمجھی جارہی ہے اس لیے اس نئی نسل کو پپلز پارٹی کے آدھی صدی پرانے منشور روٹی، کپڑا اور مکان کی طرف راغب کرنے کے لیے بھی ضروری ہے کہ نوجواں ہی قیادت سنبھالیں جو اس نسل کے مزاج کو سمجھ اور اپنے مثبت مقاصد کی طرف متوجہ بھی کر سکیں آئڈیلزم کا شکار قوم کے یہ نوجوان بچے ایرے غیرے سے متاثر بھی نہیں ہورہے اور اگر یہ نوجواں مودی، ٹرمپ یا۔۔۔۔جیسے انسانی رشتوں کے دشمن انتہا پسندوں کو بھی اپنے من میں بٹھا لیں تو پھر جدید علوم سے آراستہ اور چونکا دینے والی تخلیقات کے درمیان علم بلوغت کو چھونے کے باوجود یہ مثبت یا منفی کی تمیز سے مبرا ہو جاتے ہیں ادراک کی کسوٹی پر کسی دلیل کو جگہ نہیں ملتی اور ہٹ دھرمی ایسی کہ چنگیز کی وحشت بھی ہاتھ جوڑ کر پناہ ماں گے، اس نسل کو تبھی بدلا جاسکتا ہے جب ان میں سے قیادت میدان سیاست میں اتاری جائے اور اس کے لیے محترم بلاول بھٹو اور محترمہ آصفہ بھٹو کے بعد ایک نیا خون بھی اس خاندان کا حصہ بننے جا رہاہے جس کی ذہانت، صلاحیت اور اور ملکی سیاست پر دسترس کسی سے پوشیدہ نہیں یہ متاثر کن شخصیت ہے محترمہ فریال تال پور کے حال ہی میں داماد کا شرف حاصل کرنے والے خوبرو نوجوان سید وجیہ علی شاہ، اگر مستقبل قریب میں انہیں کراچی کو سنوارنے یا سندھ حکومت کی کمزور شہرت کو دوام بخشنے کے لیے صدر مملکت کوئی مناسب منصب عطا کریں تو یقینا اس کے نتائج حیران کن ہوسکتے ہیں وہ اس لیے نہیں کہ محترمہ فریال تال پور کے داماد ہیں بلکہ انہوں نے ماضی قریب میں غیر اعلانیہ طور پر جس طرح انہیں سونپے گئے عوامی فلاح کے ٹاسک کو مکمل کیا اور پارٹی کو شاندار نتائج دیے اس کے علاوہ دبئی میں کامیابیوں کی نئی مثال قائم کرتے ہوے اپنے کاروبار کو وسیع پیمانے پر منظم کیا وہ حیرت انگیز ہے توقع یہی کی جارہی ہے کہ اعلی تعلیم سے آراستہ یہ نوجوان مستقبل کی سندھ اور کراچی کی سیاست میں نمایاں مقام حاصل کرے گا کیوں کہ محترمہ فریال تالپور جیسی زیرک سیاستداں کے زیر سایہ ان کی تربیت کا عمل جاری ہے، پی پی سندھ کی آج بھی مقبول جماعت ہے جس میں ایک طرف محترم بلاول بھٹو اور محترمہ آصفہ بھٹو جیسے قابل اور اعلی کردار کے قائدین ہیں، سینیر وزیر شرجیل میمن اور سید ناصر حسین شاہ جیسے محنتی اور منصوبہ ساز وزرا ہیں وہیں اس پارٹی میں کراچی کے کوٹہ میں صوبائی وزیر کا منصب حاصل کرنے والے سعید غنی بھی ہیں جو لاکھوں روپیہ کے 4 خطرناک شکاری کتے اپنے عوامی دفتر میں باندھ کر فخر محسوس کرتے ہیں ایسے عناصر کی وجہ سے پی پی پر ننگی تنقید کرنے والوں کی ایک لمبی لائن لگ چکی ہے کچھ ایسے پی پی مخالفین محترمہ فریال تال پور پر بھی تنقید کرتے نظر آتے ہیں مگر ایسے میں وہ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ جب سے محترمہ کو پپلز پارٹی خواتین ونگ کا صدر بنایا گیا ہے پارٹی کی فعالیت بہت نمایاں ہوئی ہے بد قسمتی سے پی پی پر ہر دور میں شدید نوعیت کے الزامات، اسکینڈلز اور پروپگنڈا کے باوجود اس کی عوامی مقبولیت کو کم نہ کیا جاسکا محترمہ کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ ایم کیو ایم، ن لیگ اور پی ٹی آئی سمیت متعدد دیگر جماعتوں کے اہم مردو خواتین رہنما محترمہ کی کوششوں سے اپنی پارٹیوں کو خیر باد کہ کر پی پی کا حصہ بن چکے ہیں جن میں نمایاں نام ن لیگ کے سابق رہنما اور اب پی پی کے رکن قومی اسمبلی آغا رفیع اللہ، جاوید ارسلا خان اور ایم کیو ایم کے رضا ہارون سمیت متعدد ایسی خواتین رہنما بھی شامل ہیں جو ماضی میں ایم کیو ایم میں اہم مناصب پر فائز تھیں ان میں سے بعض خواتین کی صلاحیتوں کو جانچ کر انہیں خاص طور پر پی پی کے میلوں لمبے میڈیا سیل میں تعینات کیاگیا ہے ایسی ہی میڈیا سیل کی ایک خاتون رہنما نے حال ہی میں ایک نجی محفل میں مجھ سمیت موجود تمام صحافیوں کو حیرت میں ڈال دیا جب یہ انکشاف کیا کہ وہ ایم کیو ایم میں ایک اہم عہدہ پر فائز جبکہ ان کا بھائی مشہور یونٹ انچارج رہاہے اور ان کا پورا خاندان ماسوا ان کے آج بھی ایم کیو ایم کے زبردست حامی ہیں یہ گفتگو وہ کراچی پریس کلب کے ٹیرس پر صحافیوں کے ایک دوستانہ گروپ میں کرہی تھیں یہ خاتون بھی محترمہ فریال کی زبردست مداح تھیں محترمہ فریال تال پور بہترین سیاسی شعور کے علاوہ اپنے بھائی کی طرح انتہائی جرئت مند بھی ہیں جس کا ثبوت ان کی اسپتال سے ظالمانہ انداز میں گرفتاری تھی جو خان کے بدترین سیاسی انتقام کے دور میں دیکھی گئی، یقینا ان کے زیر سایہ سید وجیہ علی کی تربیت شاندار مستقبل کی نوید سمجھی جارہی ہے.

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*