
کراچی: نیو کراچی ٹاؤن میں مبینہ میگا کرپشن کا معاملہ اینٹی کرپشن کے ریڈار پر آ گیا۔ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سندھ نے اعلیٰ منتخب بلدیاتی نمائندوں اور سرکاری افسران کو طلب کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن محمد یوسف اور وائس چیئرمین شعیب بن ظہیر کو 29 ستمبر کو طلب کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سابق میونسپل کمشنر منور ملاح اور محکمہ بی اینڈ آر کے اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر فیصل صغیر کو بھی طلبی کے نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔اینٹی کرپشن ذرائع کے مطابق طلبی روڈ کٹنگ، پراپرٹی ٹیکس اور ترقیاتی فنڈز میں خرد برد کی عوامی شکایات پر کی گئی ہے۔ شکایت میں فنڈز کی مبینہ لوٹ مار اور خرد برد کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔محکمہ اینٹی کرپشن مبینہ جعلی کمپنیوں کے ذریعے ٹھیکے دینے کے الزام پر بھی تحقیقات کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں تین کمپنیوں کریسنٹ انجینئرنگ، سیدہ ایم ایچ انٹرپرائزز اور اسپارک بلڈ انٹرپرائزز کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا گیا ہے۔اینٹی کرپشن نے استفسار کیا ہے کہ مذکورہ کمپنیاں پی ای سی میں رجسٹرڈ ہیں یا نہیں؟ جبکہ ایف بی آر ٹیکس ریٹرنز اور پچھلے سالوں کا ریکارڈ بھی مانگ لیا گیا ہے۔اس کے علاوہ سال 2026 کے دوران نیو کراچی ٹاؤن میں جاری کیے گئے تمام ورک آرڈرز اور پی سی ون کا مکمل ڈیٹا بھی طلب کر لیا گیا ہے۔ اینٹی کرپشن حکام کے مطابق تمام ریکارڈ کا جائزہ لے کر مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔



