نوکری کا جھانسہ دے کر خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی، کے ایم سی افسر گرفتار

کے ایم سی کے شعبہ انسدادِ تجاوزات کا اسسٹنٹ ڈائریکٹر مرکزی ملزم نکلا

انٹرویو کے بہانے خاتون کو سرجانی کے سنسان علاقے میں لے جایا گیا، 4K چورنگی پر نڈھال حالت میں چھوڑنے کا الزام

مقدمہ 376، 34 کے تحت درج، مفرور دو ملزمان کی گرفتاری کیلئے پولیس کے چھاپے جاری

کراچی (رپورٹ: سعد شیخ) کراچی میں سرکاری ادارے کے ایک افسر پر نوکری کا جھانسہ دے کر خاتون کو مبینہ اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا سنگین الزام سامنے آگیا۔ تھانہ سرجانی ٹاؤن پولیس نے مقدمہ درج کرکے کے ایم سی کے شعبہ انسدادِ تجاوزات میں تعینات اسسٹنٹ ڈائریکٹر انوار کو گرفتار کرلیا، جبکہ واقعے میں مبینہ طور پر ملوث دو دیگر افراد تاحال پولیس کی گرفت سے باہر ہیں۔پولیس کے مطابق واقعہ 4 اگست کو پیش آیا، جب خاتون کو نارتھ ناظم آباد نمبر 2 سے مبینہ طور پر ملازمت کے انٹرویو کا کہہ کر گاڑی میں بٹھایا گیا۔ خاتون کو سرجانی ٹاؤن کے ایک سنسان مقام پر لے جایا گیا، جہاں تین ملزمان نے مبینہ طور پر اسلحے کے زور پر تشدد کیا اور اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔پولیس کے مطابق ملزمان متاثرہ خاتون کو 4K چورنگی کے قریب نڈھال حالت میں چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ خاتون گھر پہنچنے کے بعد اہل خانہ کے ہمراہ تھانہ سرجانی ٹاؤن پہنچی، جہاں ملزمان کے خلاف مقدمہ الزام نمبر 792/26 درج کرلیا گیا۔مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 376 اور 34 شامل کی گئی ہیں۔ پولیس نے تفتیش کے دوران مرکزی ملزم انوار کو گرفتار کرلیا، جس کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ وہ کے ایم سی کے شعبہ انسدادِ تجاوزات میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدے پر تعینات ہے پولیس نے دیگر دو مبینہ ملزمان تک پہنچنے کے لیے تکنیکی ذرائع سے مدد لینا شروع کردی ہے، جبکہ ان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپہ مار کارروائیاں بھی جاری ہیں۔واقعے نے کے ایم سی جیسے بڑے شہری ادارے میں افسران کی نگرانی، اختیارات کے استعمال اور ملازمت کے نام پر شہریوں سے رابطے کے طریقۂ کار پر بھی سنجیدہ سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ تاہم ملزم پر عائد الزامات کی حتمی تصدیق عدالتی کارروائی کے بعد ہی ہوسکے گی۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*