میڈیا کی وجہ سے زیادہ شور مچا ورنہ انمول پنکی اتنی بھی بڑی منشیات سپلائر نہیں: ایڈیشنل آئی جی کراچی

ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان کا کہنا ہے کہ میڈیا کی وجہ سے زیادہ شور مچا ورنہ انمول پنکی اتنی بھی بڑی منشیات سپلائر نہیں ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس ہوا جس میں ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے انمول پنکی کیس پر کمیٹی کو بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ انمول پنکی کیس میں 10 افراد کو چالان کیا جا چکا ہے، 2 افراد ملزمہ کے سوشل میڈیا اور مالیاتی اکاؤنٹس چلاتے تھے، وہ تمام نیٹ ورک لاہور سے آپریٹ کرتی تھی اور سمیر نامی ملزم بھی مرکزی ساتھی ہے۔

آزاد خان نے بریفنگ میں بتایا کہ عاقب نامی شخص کراچی میں انمول پنکی کا منشیات کا نیٹ ورک چلاتا ہے، صابرہ اور حمیرا بھی ملزمہ کے منشیات کے نیٹ ورک کا فعال حصہ ہیں، دونوں خواتین اس کی رائیڈر کے طور پر بھی کام کرتی تھیں، افریقی باشندے اس کو کوکین سپلائی کرتے تھے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ انمول پنکی کے مجموعی 25 رائیڈرز تھے جن کی مکمل شناخت ہو چکی ہے، ایک اکاؤنٹ میں صرف ایک سال کے دوران 3 کروڑ روپے آئے، ایک ہی ٹرانزیکشن 29 ملین یعنی 2 کروڑ 90 لاکھ روپے کی ہوئی، اب تک کی تحقیقات میں کل 10 کروڑ روپے کا ڈیٹا سامنے آیا ہے۔

چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ سندھ کے وزرا کے خلاف اربوں روپے کی کہانیاں موجود ہیں، یلو لائن اور بلیو لائن کیسز کو دیکھ لیں ضمیر عباسی بھی گرفتار ہے، وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے بھی کہا تھا کہ انمول پنکی کو کسی صورت نہیں چھوڑیں گے، کیا انہوں نے اس معاملے پر آپ سے کوئی رابطہ کیا؟

اس پر آزاد خان نے بتایا کہ وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے اس سلسلے میں ہم سے کوئی رابطہ نہیں کیا، انمول پنکی کے بے نامی اکاؤنٹس سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*