میرپورخاص بورڈ اسکینڈل: "جعلی سرٹیفکیٹ 5 لاکھ اور فیل طلبا کو اے ون گریڈ دلوانے کا ریٹ ایک لاکھ روپے مقرر، گرفتار آئی ٹی انچارج کے سنسنی خیز انکشافات”

‘میٹرک اور انٹر سرٹیفکیٹ کے 5 لاکھ، فیل طلبا کو اے ون گریڈ میں پاس کرنے کے ایک لاکھ لیتے تھے’ میرپور خاص بورڈ کے گرفتار آئی ٹی انجارج کے سنسنی خیز انکشافات

میٹرک و انٹرمیڈیٹ بورڈ میرپورخاص کے آئی ٹی سیکشن کے انچارج اعظم خان کی گرفتاری کے بعد بڑے پیمانے پر مبینہ کرپشن اور جعلسازی کا انکشاف سامنے آیا ہے۔

گرفتار ملزم اعظم خان کے مطابق بورڈ میں گریڈ بڑھانے، فیل طلبہ کو پاس کرنے اور جعلی سرٹیفکیٹس جاری کرنے کا باقاعدہ نیٹ ورک کام کر رہا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ فیل طلبہ کو پاس کرنے یا اے ون گریڈ دلوانے کے لیے 50 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک وصول کیے جاتے تھے۔

ملزم کے مطابق براہ راست میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے سرٹیفکیٹس جاری کرنے کے لیے 4 سے 5 لاکھ روپے تک لیے جاتے تھے، جبکہ اس عمل میں سالانہ تقریباً 6 سے 7 ہزار کیسز نمٹائے جاتے تھے۔

اعظم خان نے انکشاف کیا کہ یہ تمام کارروائیاں مبینہ طور پر کنٹرولر ایگزامینیشن انور علیم خانزادہ کی سربراہی میں ہو رہی تھیں، جبکہ اس نیٹ ورک میں سپرنٹنڈنٹ ایچ ایس سی سیکرٹ برانچ شاہد لطیف، سپرنٹنڈنٹ ایس ایس سی ارشاد خانزادہ، کنٹرولر ایگزامینیشن کے پی اے معظم شہباز اور انچارج ویریفکیشن نعمان احمد راجپوت بھی شامل تھے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ جعلی سرٹیفکیٹس نہ صرف تیار کیے جاتے تھے بلکہ انہیں باقاعدہ ویریفائی بھی کرایا جاتا تھا، جبکہ اس غیر قانونی کام میں مختلف اسکولز بھی ملوث تھے۔

گرفتار ملزم کے مطابق اس نیٹ ورک کے ایجنٹس پورے پاکستان میں موجود تھے جو امیدواروں سے رابطہ کر کے معاملات طے کرتے تھے۔

ذرائع کے مطابق ان انکشافات کے بعد متعلقہ اداروں نے مزید تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے اور مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*