سندھ کابینہ کو اعتماد میں لینے کے بعد رپورٹ محکمہ داخلہ کی ویب سائٹ پر پبلک کردی جائے گی۔

سندھ حکومت نے میر رضا قتل کیس میں عدالتی کمیشن کی رپورٹ پبلک کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، سندھ کابینہ کو رپورٹ پبلک کرنے پر اعتماد میں لیا جائے گا، جس کے بعد رپورٹ محکمہ داخلہ کی ویب سائٹ پر آج پبلک کردی جائے گی۔
پیر کے روز سندھ حکومت کی جانب سے کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا علی کے قتل کی تحقیقات کے لیے قائم عدالتی کمیشن کی رپورٹ عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سندھ کابینہ کو رپورٹ پبلک کرنے کے فیصلے پر اعتماد میں لیا جائے گا، جس کے بعد رپورٹ آج محکمہ داخلہ سندھ کی ویب سائٹ پر جاری کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی رپورٹ منظرعام پر لانے کی تجویز سے اتفاق کیا ہے۔
یاد رہے کہ میر رضا علی قتل کیس کی تحقیقات کے لیے سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم عدالتی کمیشن اپنی کارروائی مکمل کرنے کے بعد رپورٹ سندھ حکومت کے حوالے کرچکا ہے۔ کمیشن نے 15 سماعتوں کے دوران 49 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے جب کہ جائے وقوعہ کا دورہ بھی کیا گیا۔ رپورٹ میں پولیس کی تفتیش، طبی و قانونی کارروائیوں اور کیس میں ممکنہ غفلت سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا ہے۔
میر رضا علی کون تھے اور واقعہ کب پیش آیا؟
واضح رہے کہ کراچی کا 25 سالہ نوجوان تاجر میر رضا علی 28 جولائی 2026 کو کراچی کے علاقے پاکستان ایمپلائیز ہاؤسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) سے لاپتہ ہوا تھا، وہ صبح 4 بج کر 9 منٹ پر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے روانہ ہوا تھا، جس کی لاش 2 روز بعد گلستانِ جوہر سے ملی تھی جب کہ ان کے جسم پر گولی لگنے کا زخم موجود تھا۔
واقعے کے بعد پولیس نے ابتدائی طور پر خودکشی کے امکان کو بھی تفتیش کا حصہ بنایا تاہم میر رضا کے اہل خانہ نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں اغوا کرکے تشدد کے بعد قتل کیا گیا۔ کیس میں ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ اور دستیاب شواہد سے متعلق سوالات سامنے آنے پر معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا۔
دوسرے پوسٹ مارٹم کے بعد تحقیقات کا رخ بدلا
میر رضا کے والد نے عدالت سے رجوع کرکے لاش کا دوبارہ پوسٹ مارٹم کرانے کی اجازت طلب کی تھی۔ 6 اگست کو کراچی کی عدالت نے لاش قبر سے نکالنے اور میڈیکو لیگل بورڈ کے ذریعے دوبارہ پوسٹ مارٹم کرانے کا حکم دیا۔ بعد ازاں طبی بورڈ کی تشکیل اور اس کے ارکان میں تبدیلی پر بھی تنازع سامنے آیا، جس کے باعث کارروائی کچھ وقت کے لیے مؤخر ہوئی۔
اہل خانہ کے مطالبے پر اصل میڈیکل بورڈ بحال کیا گیا اور 8 اگست کو لاش قبر سے نکال کر دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا گیا۔ اس کے بعد پولیس کی تفتیشی ٹیم بھی تبدیل کی گئی، قتل کی تفتیش زمان ٹاؤن پولیس اسٹیشن منتقل ہوئی اور مقدمے میں قتل کی دفعہ شامل کیے جانے کی اطلاع سامنے آئی۔
عدالتی کمیشن کیوں قائم کیا گیا؟
میر رضا کے اہل خانہ نے تحقیقات کے طریقہ کار پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے سندھ حکومت سے براہ راست مداخلت اور پولیس کی سابقہ تفتیش کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا تھا۔ حکومت سندھ نے اگست میں سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے عدالتی کمیشن قائم کرنے کی درخواست کی تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ قتل کی تحقیقات غیر جانب دارانہ اور قانون کے مطابق ہوئیں یا نہیں۔
کمیشن کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ واقعے کے حالات، قتل کے ممکنہ محرکات، پولیس اور میڈیکو لیگل حکام کے کردار، شواہد میں ممکنہ غفلت یا ردوبدل اور تفتیش میں سامنے آنے والی خامیوں کا جائزہ لے۔ اسے مزید تحقیقات، فرانزک تجزیے اور متعلقہ حکام کے خلاف قانونی یا محکمانہ کارروائی کی سفارشات دینے کا اختیار بھی حاصل تھا۔
اہل خانہ نے جے آئی ٹی بنانے کا مطالبہ کیا
میر رضا کے خاندان نے عدالتی کمیشن کے قیام پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ اہل خانہ کا مؤقف تھا کہ قتل کی تحقیقات ایسے افسران پر مشتمل ٹیم سے کرائی جائیں جن کا پہلے سے اس کیس سے تعلق نہ رہا ہو۔
خاندان نے سندھ ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا تاہم 2 ستمبر کو عدالت نے جے آئی ٹی بنانے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ جے آئی ٹی تشکیل دینا حکومت کا اختیار ہے۔ عدالت نے جاری فوجداری تحقیقات میں مداخلت یا ان کی نگرانی سے بھی انکار کیا۔
کمیشن نے 49 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے
عدالتی کمیشن نے کارروائی کے دوران پولیس افسران، میڈیکو لیگل حکام، اہل خانہ اور دیگر متعلقہ افراد کے بیانات قلم بند کیے۔ سماعتوں میں ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ، جائے وقوعہ کی نگرانی، سی سی ٹی وی فوٹیج اور تفتیشی ریکارڈ سے متعلق سوالات بھی اٹھائے گئے۔
اکتوبر کے پہلے ہفتے میں کمیشن نے اپنی کارروائی مکمل کرلی، جس کے بعد 15 اکتوبر کو رپورٹ سربمہر لفافے میں سندھ حکومت کے حوالے کردی گئی۔ رپورٹ میں کمیشن کے نتائج اور سفارشات کے علاوہ گواہوں کے بیانات اور متعلقہ دستاویزات بھی شامل ہیں۔
اب سندھ حکومت کی جانب سے رپورٹ عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ اس کیس میں اہم پیش رفت ہوگا تاہم رپورٹ کے مکمل مندرجات، کمیشن کی حتمی سفارشات اور ان پر حکومت کی جانب سے کی جانے والی کارروائی کی تفصیلات رپورٹ باضابطہ طور پر جاری ہونے کے بعد ہی سامنے آئیں گی۔
