
کراچی (8 مارچ 2026): پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تاریخی اضافے کے بعد اب روزمرہ استعمال کی ہر شے کی قیمت کو پر لگ رہے ہیں۔
پٹرول کی قیمت میں اضافے کے بعد اشیائے خور ونوش کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان میں معمول بن چکا ہے کیونکہ تاجر اس کو ٹرانسپورٹ خرچ میں اضافے سے جوڑتے ہیں۔
تاہم اس بار یکمشت 55 روپے فی لیٹر کے تاریخی اضافے کے بعد اب روزمرہ استعمال کی ضروری اشیا کی قیمتوں کو پر لگ رہے ہیں۔ سبزیاں اور پھل تو مہنگے ہوئے ہیں، ساتھ ہی ڈیری مصنوعات بھی مہنگی ہونے کا امکان ہے۔
اس حوالے سے ڈیری فارمرز ایسوسی ایشن نے کمشنر کراچی کو دودھ کی فی لیٹر قیمت میں غیر معمولی اضافے کے لیے خط لکھ دیا ہے۔
کمشنر کے نام لکھے گئے خط میں ڈیری فارمرز ایسوسی ایشن نے دودھ کی قیمت میں موجودہ نرخ سے یکدم 100 روپے فی لیٹر اضافے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ پہلے ہی نقصان ہو رہا تھا، اب پٹرولیم مصنوعات نے نقصان بڑھا دیا ہے اور 70 روپے فی لیٹر نقصان برداشت سے باہر ہوگیا ہے۔
ڈیری فارمرز ایسوسی ایشن نے کمشنر کراچی سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کی درخواست پر ہمدردانہ غور کریں۔
