وزیراعظم شہباز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔

کراچی: منگھوپیر میں پولیس وردی میں ملبوس ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان روشم حسین کے قتل کے معاملے میں پولیس نے 19 دن بعد بڑی کارروائی کرتے ہوئے 2 مبینہ ملزمان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کر دیا۔ایس ایس پی ویسٹ طارق الٰہی مستوئی کے مطابق گرفتار ملزمان میں دلاور عرف طارق اور محمد رضوان عرف آصف عرف راجو شامل ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری اور اب تک کی تفتیش سے متعلق مقتول روشم کے والد روئیداد حسین کو باقاعدہ طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔ایس ایس پی ویسٹ نے بتایا کہ گرفتار ملزمان کی نشاندہی پر وارداتوں میں استعمال ہونے والے جعلی پولیس یونیفارم بھی برآمد کر لیے گئے ہیں۔پولیس حکام کے مطابق گرفتار ملزم دلاور عرف طارق اس سے قبل بھی منگھوپیر میں ہونے والی ہاؤس رابری کے ایک مقدمے میں نامزد ملزم ہے، جبکہ ہاؤس رابری کے ایک اور مقدمے میں مدعی نے گرفتار دونوں ملزمان کو شناخت بھی کیا ہے۔ایس ایس پی ویسٹ کا کہنا ہے کہ 08 ستمبر کو منگھوپیر مہران سٹی میں دوران واردات قتل ہونے والے روشم حسین کے مقدمے میں بھی دونوں ملزمان کو شامل تفتیش کیا گیا ہے اور مزید تحقیقات و تفتیش ایس آئی یو اور سی آئی اے حکام کر رہے ہیں۔ دونوں ملزمان کو متعلقہ تفتیشی حکام کے سپرد کر دیا گیا ہے۔دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم طارق منگھوپیر تھانے کا مبینہ بیٹر ہے جسے پنجاب سے گرفتار کیا گیا ہے۔یاد رہے کہ روشم حسین 8 بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا جس کے قتل کے بعد لواحقین نے منگھوپیر تھانے کے باہر 5 روز تک دھرنا دیا تھا جس پر ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان سمیت سینئر افسران تھانے پہنچے تھے۔
