
بھارتی شہر ممبئی میں ایک ہی خاندان کے چار افراد کی تربوز کھانے کے بعد پُراسرار طور پر موت کے کیس میں پیشرفت ہوئی ہے، تحقیقات میں ایک ممکنہ زہریلے مادے کی موجودگی کے شواہد سامنے آئے ہیں۔
ممبئی کے رہائشی 45 سالہ عبداللہ اپنی اہلیہ نسرین اور دو بیٹیوں زینب اور عائشہ کے ساتھ گزشتہ ہفتے اپنے گھر میں رشتہ داروں کی دعوت کی میزبانی کر رہے تھے۔ مہمانوں کو مٹن پلاؤ پیش کیا گیا، جسے سب نے کھایا اور وہ خیریت سے اپنے گھروں کو روانہ ہو گئے۔
ذرائع کے مطابق مہمانوں کے جانے کے بعد اہلِ خانہ نے رات تقریباً ایک بجے تربوز کھایا۔ چند گھنٹوں بعد، یعنی صبح پانچ بجے کے قریب، خاندان کے تمام افراد کی طبیعت اچانک بگڑ گئی، انہیں شدید قے ہوئی جو بظاہر فوڈ پوائزننگ کی علامات تھیں۔ تاہم حالت تیزی سے بگڑتی گئی اور چاروں افراد چند ہی گھنٹوں میں دم توڑ گئے۔
اہلخانہ کی جانب سے تربوز کھانے کے بعد اسے ہی اموات کی وجہ سمجھا گیا، لیکن اب فرانزک تحقیقات نے اس مفروضے پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پوسٹ مارٹم کے دوران مقتولین کے بعض اندرونی اعضا، جن میں دماغ، دل اور آنتیں شامل ہیں، سبز رنگت اختیار کر چکے تھے، جو عام فوڈ پوائزننگ کے کیسز میں نہیں دیکھا جاتا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ علامات کسی زہریلے مادے کی موجودگی کی طرف اشارہ کر سکتی ہیں۔
مزید برآں، عبداللّٰہ کے جسم میں ایک طاقتور درد کش دوا کے آثار بھی پائے گئے ہیں، جس نے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ تفتیش کار اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ دوا کسی طبی استعمال کا نتیجہ تھی، حادثاتی طور پر جسم میں گئی یا کسی مشتبہ عمل کا حصہ ہے۔
ریاستی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کا کہنا ہے کہ اب تک تربوز اور ہلاکتوں کے درمیان کوئی براہِ راست تعلق ثابت نہیں ہوا۔ حتمی رائے کیمیائی تجزیے کی مکمل رپورٹ آنے کے بعد ہی دی جائے گی۔
پولیس نے واقعے کا مقدمہ حادثاتی موت کے تحت درج کر لیا ہے اور مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں، جن میں ممکنہ زہریلا مواد، خوراک میں ملاوٹ، یا دیگر وجوہات شامل ہیں۔
تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس افسوسناک واقعے کی اصل وجہ کیا تھی۔ تاہم ابتدائی شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ معاملہ محض سادہ فوڈ پوائزننگ نہیں بلکہ کسی پراسرار زہریلے اثر کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ حتمی سچائی فرانزک اور کیمیائی رپورٹس آنے کے بعد ہی سامنے آئے گی۔
