
اسلام آباد : او جی ڈی سی ایل نے ملک کا پہلا ‘افقی تیل کا کنواں’ فعال کر دیا ، یہ کنواں یومیہ 460 بیرل تیل پیدا کر رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان کے توانائی کے شعبے میں ایک نئی تاریخ رقم ہو گئی ہے، آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ نے سندھ کے ضلع حیدرآباد میں پاکستان کے پہلے افقی تیل کے کنویں سے پیداوار کا کامیاب آغاز کر دیا ہے۔
یہ پیش رفت خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کی پالیسی معاونت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کا نتیجہ ہے۔
او جی ڈی سی ایل کا کہنا تھا کہ حیدرآباد میں واقع ‘پاساکھی 13’ نامی کنویں سے تیل کی باقاعدہ پیداوار شروع ہو چکی ہے، یہ کنواں یومیہ 460 بیرل تیل پیدا کر رہا ہے، اسے مجموعی طور پر 2966 میٹر گہرائی تک کھودا گیا، جس میں 546 میٹر افقی حصہ شامل کیا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ ذخائر تک رسائی حاصل کی جا سکے۔
اس منصوبے میں جدید ترین جیو اسٹیئرنگ اور ای ایس پی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی بدولت اس افقی کنویں کی پیداوار عام روایتی کنوؤں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے۔ مقامی سطح پر تیل کی پیداوار میں یہ اضافہ ملک کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس سے درآمدی پیٹرولیم مصنوعات پر انحصار کم ہوگا، قیمتی زرِ مبادلہ کی بچت ہوگی اور ملکی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی۔
حکام کے مطابق، ایس آئی ایف سی کی جانب سے توانائی کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی لانے اور مقامی پیداوار بڑھانے کے لیے فراہم کردہ سہولیات نے اس منصوبے کی تکمیل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ کامیابی مستقبل میں مزید افقی کنوؤں کی کھدائی کے لیے راہ ہموار کرے گی۔
