
مہنگی ایل این جی کی درآمد، حکومت کی پالیسی سے 1.2 ارب ڈالر کا نقصان
کراچی (رپورٹ عرفان فاروقی) توانائی کے شعبے میں حکومتی پالیسیوں نے ایک بار پھر قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا دیا۔ باوثوق زرائع سے انکشاف ہوا ہے کہ حکومت نے عالمی مارکیٹ سے مہنگی ایل این جی خریدنے کے لیے مقامی گیس کی پیداوار میں کمی کروا دی۔ اس فیصلے کے نتیجے میں ملکی معیشت کو صرف ایک سال میں تقریباً 1.2 ارب ڈالرز کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔
ذرائع کے مطابق، توانائی کی مقامی پیداوار کو ترجیح نہ دینے اور ضرورت سے زیادہ درآمدات پر انحصار کرنے کی وجہ سے نہ صرف درآمدی بل میں اضافہ ہوا بلکہ عوام کو بھی مہنگی گیس کے بوجھ کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے صنعتی پیداوار کی لاگت بڑھنے کے ساتھ ساتھ بجلی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا، جس کا براہِ راست اثر عام صارفین پر پڑا۔
زرائع کا کہنا ہے کہ اگر حکومت مقامی گیس کے ذخائر پر انحصار بڑھاتی اور جامع پالیسی اختیار کرتی تو قومی معیشت کو اربوں ڈالرز کے نقصان سے بچایا جا سکتا تھا۔ زرائع اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ مستقبل میں مقامی وسائل کی دریافت اور ان کے مؤثر استعمال پر توجہ نہ دی گئی تو پاکستان کو مزید معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
