
حیدراباد۔۔۔رپورٹ۔۔راحت کاظمی۔۔۔۔۔۔ پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس کی بحث، کیا ملک ایک نئے انتظامی نظام کی طرف بڑھ رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس یا چھوٹے صوبوں کے قیام کی بحث نے سیاسی اور آئینی حلقوں میں نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے ملک میں نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت پر زور دینے کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھی بہتر طرزِ حکمرانی کو ملکی سلامتی اور استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وزیر داخلہ کی نئے صوبوں سے متعلق رائے ان کی ذاتی رائے ہے، جبکہ اصل توجہ مؤثر گورننس پر ہونی چاہیے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان گزشتہ پچہتر برسوں میں مختلف انتظامی اور حکومتی ماڈلز آزما چکا ہے۔ گورنر جنرل کا نظام، ون یونٹ، مارشل لا، لوکل گورنمنٹ سسٹم، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور مختلف آئینی اصلاحات جیسے اقدامات کیے گئے، لیکن ملک اب بھی انتظامی مسائل، بڑھتی آبادی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم جیسے چیلنجز سے دوچار ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کی تجویز پر عملی پیش رفت ہوتی ہے تو اس کے لیے وسیع سیاسی اتفاقِ رائے اور آئینی تقاضے پورے کرنا ہوں گے۔ اس وقت یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ وفاقی حکومت اپنی مدت پوری کرے گی یا اس سے پہلے کوئی بڑی آئینی تبدیلی سامنے آئے گی۔ دوسری جانب، بعض حلقے اس بحث کو ملک میں انتظامی اصلاحات کی ضرورت سے جوڑ رہے ہیں، جبکہ بعض سیاسی جماعتیں اسے آئندہ سیاسی منظرنامے سے بھی منسلک کر رہی ہیں۔ آنے والے دنوں میں حکومت، پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں کا مؤقف اس بحث کی سمت کا تعین کرے گا۔ فی الحال اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں انتظامی ڈھانچے، اختیارات کی تقسیم اور بہتر حکمرانی سے متعلق بحث پہلے سے زیادہ شدت اختیار کر چکی ہے، جبکہ کسی بھی بڑی آئینی یا انتظامی تبدیلی کے لیے آئینی طریقۂ کار، پارلیمانی منظوری اور سیاسی اتفاقِ رائے بنیادی شرط ہوں گے۔
