
رپورٹ:راحت کاظمی
حیدرآباد: متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے ایک نازک ترین سیاسی بحران سے گزر رہی ہے۔ جماعت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات، گروہ بندی اور قیادت کی رسہ کشی نے لاکھوں مہاجر ووٹرز کو شدید مایوسی اور بے یقینی میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک جانب بہادرآباد کی قیادت اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کر رہی ہے تو دوسری طرف سابق پاکستان سرزمین پارٹی (پی ایس پی) اور تنظیم بحالی کمیٹی سے تعلق رکھنے والے رہنما الگ سیاسی صف بندی میں مصروف دکھائی دے رہے ہیں۔
عام انتخابات سے قبل مہاجر ووٹ کو یکجا کرنے کے نام پر پی ایس پی اور دیگر دھڑوں کو متحدہ قومی موومنٹ میں ضم کیا گیا۔ انہی رہنماؤں نے ایم کیو ایم کے انتخابی نشان پر کامیابی حاصل کی، قومی اسمبلی اور سندھ اسمبلی پہنچے، وفاقی وزارتوں اور اہم حکومتی عہدوں سے بھی نوازے گئے، مگر اقتدار ملتے ہی اختلافات اس شدت سے سامنے آئے کہ آج وہی رہنما ایک دوسرے کے خلاف صف آراء نظر آتے ہیں۔
حیدراباد کےشہریوں کا کہنا ہے کہ قیادت عوامی خدمت کے بجائے اپنی اپنی سیاسی دکان چمکانے میں مصروف ہے۔ کہیں طاقت کے مظاہرے کیے جا رہے ہیں، کہیں ریلیاں اور جلسے منعقد ہو رہے ہیں، کہیں ایک دوسرے پر تنقید کے تیر برسائے جا رہے ہیں اور کہیں سندھ حکومت کے خلاف الگ الگ مہمات چلائی جا رہی ہیں، مگر عوام کے بنیادی مسائل آج بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔ پانی کا بحران، سیوریج کا ناقص نظام، ٹوٹی ہوئی سڑکیں،حیسکو کے مسایل۔ صفائی کی بدترین صورتحال، بے روزگاری اور دیگر شہری مسائل پر کوئی مؤثر پیش رفت دکھائی نہیں دیتی۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر مہاجر سیاست کی نمائندہ جماعت ہی اندرونی لڑائیوں میں الجھی رہے گی تو عوام کی آواز کون اٹھائے گا؟ ووٹرز کا اعتماد تیزی سے مجروح ہو رہا ہے اور وہ یہ سوال کرنے پر مجبور ہیں کہ آخر مہاجر قوم کی اصل قیادت کون ہے، اور وہ کس پر اعتماد کریں؟
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر اختلافات کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو اس کا سب سے زیادہ نقصان خود متحدہ قومی موومنٹ، اس کے ووٹر اور شہری سندھ کی سیاست کو پہنچے گا۔ عوام نے جماعت کو اپنے مسائل کے حل، بہتر نمائندگی اور شہری حقوق کے تحفظ کے لیے مینڈیٹ دیا تھا، نہ کہ اندرونی کشمکش، گروہ بندی اور اقتدار کی جنگ دیکھنے کے لیے۔
شہریوں نے متحدہ قومی موومنٹ کی تمام قیادت سے اپیل کی ہے کہ ذاتی اختلافات، گروہی مفادات اور عہدوں کی سیاست کو ترک کرکے مہاجر قوم کے وسیع تر مفاد میں ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر قیادت نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے تو نقصان صرف کسی ایک دھڑے کا نہیں بلکہ پوری مہاجر سیاست اور اس کے ووٹر کا ہوگا۔ عوام کو اب نعروں، جلسوں اور طاقت کے مظاہروں سے زیادہ اپنے مسائل کے عملی حل، متحد قیادت اور مؤثر نمائندگی کی ضرورت ہے۔
۔
