لبنان کی سرحد پر حزب اللہ کا حملہ: اسرائیلی وزیرِ خزانہ کے بیٹے سمیت 8 فوجی زخمی، ہلاکت کی افواہیں زیرِ گردش

مارٹر گولے کے شیل کے ٹکڑے اسرائیلی وزیر کے بیٹے کی کمر اور پیٹ میں پیوست ہوگئے

اسرائیل کے وزیرِ خزانہ بیزلیل سموتریچ نے لبنان کی سرحد کے قریب حملے میں ان کے بیٹے سمیت آٹھ اسرائیلی فوجیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔ سوشل میڈیا پر ان کے بیٹے کی ہلاکت کی خبریں بھی وائرل ہیں۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق جمعے کے روز لبنان کی سرحد کے قریب حزب اللہ کے راکٹ حملے میں اسرائیلی فوج کے 8 اہلکار زخمی ہوئے، جن کا تعلق اسرائیلی فوج کی گیواتی اور گولانی بریگیڈز سے بتایا جاتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق زخمی ہونے والے آٹھ فوجیوں میں سے پانچ کی حالت تشویش ناک ہے جب کہ تین کو معمولی نوعیت کی چوٹیں آئی ہیں۔

اسرائیلی وزیرِ خزانہ بیزلیل سموتریچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں بتایا کہ جمعے کے روز لبنان کی سرحد پر تعینات اسرائیلی فوجیوں پر مارٹر حملے میں ان کا بیٹا بینیا ہیبرون بھی شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حملے میں استعمال ہونے والے مارٹر گولے کے شیل کے ٹکڑے ان کے بیٹے کی کمر اور پیٹ میں پیوست ہوگئے جس کے بعد اسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ایک شیل کا ٹکڑا ان کے بیٹے کے جگر کو چیرتے ہوئے پیٹ کی سب سے بڑی خون کی شریان میں جا کر پھنس گیا۔

اسرائیلی وزیر خزانہ نے کہا کہ اگر اس شریان کو نقصان پہنچ جاتا تو صورت حال کہیں زیادہ سنگین ہوسکتی تھی۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر اسرائیلی وزیر کے بیٹے بینیا ہیبرون کی ہلاکت کی خبریں بھی وائرل ہیں تاہم معتبر ذرائع ابلاغ یا سرکاری حکام نے تاحال اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔

اسرائیلی میڈیا نے وزیرِ خزانہ کی اپنے بیٹے کو لبنانی سرحد پر تعیناتی سے قبل الوداع کرنے کی ویڈیو بھی نشر کی تھی۔

واضح رہے کہ اسرائیلی قانون کے تحت 18 سال کی عمر کو پہنچنے والے تقریباً تمام اسرائیلی شہریوں کے لیے فوج میں خدمات انجام دینا لازمی ہے۔

اگرچہ یہ قانون سب کے لیے برابر ہے تاہم عملی طور پر کچھ گروہ اس سے مستثنیٰ ہیں جن میں انتہا پسند قدامت پسند یہودی شامل ہیں۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*