
کراچی میں غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جہاں ایس بی سی اے کی مبینہ غفلت اور بااثر بلڈرز کی سرپرستی کے باعث رہائشی علاقوں میں خطرناک عمارتیں تیزی سے کھڑی کی جا رہی ہیں۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ بارہا نشاندہی کے باوجود سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے، جس سے ادارے کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں، خصوصاً صدر ٹاؤن میں، قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کثیر المنزلہ عمارتوں کی . تعمیر جاری ہے اور مبینہ طور پر بغیر منظور شدہ نقشے کے تعمیرات کھلے عام جاری ہیں، جبکہ متعلقہ حکام کی جانب سے کوئی مؤثر اقدام سامنے نہیں آیا۔
شہریوں کا الزام ہے کہ بعض بااثر بلڈرز، جن میں بلڈر حنیف گھانچی کا نام بھی لیا جا رہا ہے، مبینہ طور پر سرکاری اہلکاروں کی ملی بھگت سے قوانین کو نظر انداز کرتے ہوئے تعمیرات جاری رکھے ہوئے ہیں۔زرائع کے مطابق ان عمارتوں میں حفاظتی اصولوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، جس کے باعث کسی بھی وقت کوئی بڑا حادثہ پیش آنے کا خدشہ موجود ہے۔
ماہرین تعمیرات کا کہنا ہے کہ غیر معیاری اور غیر قانونی تعمیرات نہ صرف شہری انفراسٹرکچر پر بوجھ بنتی ہیں بلکہ زلزلے یا دیگر ہنگامی حالات میں جانی و مالی نقصان کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔ ماہرین تعمیرات نے متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر ان تعمیرات کا جائزہ لے کر غیر قانونی عمارتوں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔
شہری تنظیموں نے حکومت سندھ اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ایس بی سی اے کی کارکردگی کا ازسرنو جائزہ لیا جائے، ڈی جی اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے اور غیر قانونی عمارتوں کو فوری طور پر مسمار کیا جائے تاکہ کسی ممکنہ سانحے سے قبل انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
