عمران اور بشریٰ قید تنہائی میں نہیں، انہیں بی کلاس سے بہتر سہولیات حاصل ہیں: ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد

اسلام آباد: ایڈووکیٹ جنرل نوید حیات ملک کا کہنا ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی تنہائی میں نہیں ہیں اور انہیں بی کلاس سے بہتر سہولیات حاصل ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی مبینہ قیدِ تنہائی کے خلاف درخواستوں پر سماعت کی جہاں پٹیشنرز کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر پیش ہوئے۔

 ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید حیات ملک نے عدالت کو بتایا کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل بھی عدالت میں موجود ہیں اور ان کی جانب سے رپورٹ بھی جمع کرا دی گئی ہے۔ 

ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں نہیں رکھا گیا بلکہ انہیں بی کلاس سے بھی بہتر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، سیکورٹی کی وجہ سے پٹیشنر کو دیگر قیدیوں سے ملنے نہیں دیا جاتا جسے یہ قید تنہائی کہتے ہیں۔

جیل سپرنٹنڈنٹ ساجد بیگ نے کہا قیدِ تنہائی میں قیدی کو 24 گھنٹے سیل میں بند رکھا جاتا ہے تاہم عمران خان کے معاملے میں ایسی صورتحال نہیں۔ انہیں 7 سیلز پر مشتمل کمپاؤنڈ میں آزادانہ نقل و حرکت کی سہولت حاصل ہے جبکہ ایک سزا یافتہ مشقتی بھی مستقل بانی پی ٹی آئی کے ساتھ موجود رہتا ہے۔

جیل سپرنٹنڈنٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو ٹی وی، اخبارات اور کتب کی سہولت حاصل ہے، 2 اخبارات باقاعدگی سے فراہم کیے جا رہے ہیں، اب تک 500 سے زائد کتب بھی فراہم کی گئی ہیں 9 کتابیں تو حال ہی میں دی گئی ہیں۔

 بیرسٹر سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر وہ بطور فرینڈ آف دی کورٹ بانی پی ٹی آئی سے ملے اور ملاقات کے دوران ان کی بینائی متاثر نظر آئی، عمران خان نے کہا کہ وہ کھانے، سکیورٹی، واش روم سے مطمئن ہیں، صرف بینائی بچا لیں۔ 

سلمان صفدر کے مطابق انہیں 7 ماہ تک اپنے مؤکل سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی اور چیف جسٹس کی مداخلت کے بعد اپریل میں صرف 65 منٹ کی ملاقات ممکن ہوئی، جس میں سے 60 منٹ بانی پی ٹی آئی نے ذہنی اذیت اور ملاقاتوں پر پابندی کی شکایت کی۔

سلمان صفدر کے مطابق عمران خان نے کہا کہ ان کی قید تنہائی 22 اور بشری بی بی کی 24 گھنٹے کی ہے، ٹی وی ہے مگر اس پر کوئی چینل نہیں آتا۔

 ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی 68 سالہ بہن علیمہ خانم کو 38 بار اڈیالہ جیل جانے کے باوجود ملاقات کی اجازت نہیں ملی، جبکہ گزشتہ 8 ماہ سے ان کی بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو بھی نہیں کرائی گئی۔ سائیکالوجیکل ٹارچر جسمانی تشدد سے زیادہ سنگین ہوتا ہے۔

 سلمان صفدر نے کہا کہ جیل سپریٹنڈنٹ کی رپورٹ تو تصدیق کر رہی ہے کہ بانی قیدِ تنہائی میں ہیں، عدالت دونوں قیدیوں کو عدالت میں طلب کر کے قیدِ تنہائی سے متعلق معلوم کرے۔

انہوں نے تجویز پیش کی کہ 3 وکلاء پر مشتمل ایک پینل بنایا جائے جو جیل جا کر تعین کرے کہ دونوں قیدیوں کے کیا حالات ہیں، عمران خان کی ہفتے میں ایک دفعہ اپنے دونوں بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کرانے کا بیان حلفی لیا جائے۔

 وکیل نے کہا ججز خود بھی جیل جاتے ہیں آپ نے خود کہا کہ سندھ میں آپ نے جیل کا دورہ کیا، یہ سابق وزیراعظم اور ایک سیاسی جماعت کے سربراہ کا معاملہ ہے۔ 

اس پر جسٹس سومرو نے کہا میں ضرور چلا جاتا لیکن میں میرپور خاص میں سینئر جج تھا اور سینئر جج دورہ کرتا ہے، اس پر علیمہ خانم نے لقمہ دیا جج صاحب خود چلے جائیں کیا ہو گیا؟

 عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد انہیں تحریری گزارشات اور عدالتی حوالہ جات پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس پر مناسب حکم جاری کیا جائے گا۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*