سولہ سالہ اقتدار، پھر بھی کراچی بے حال! وزیراعلیٰ کا آبائی علاقہ سہون بنیادی سہولتوں سے محروم، تو کروڑوں کے کراچی کی ترقی کے دعوے کیسے

معزرت کے ساتھ

تحریر راحت کاظمی

سندھ پر پاکستان پیپلز پارٹی کی تقریباً سولہ سالہ حکمرانی کے بعد آج سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر سندھ کے عوام کو کب وہ بنیادی سہولیات ملیں گی جو ایک فلاحی ریاست میں ان کا بنیادی حق ہیں؟
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا تعلق ضلع جامشورو کے تاریخی شہر سیہون سے ہے، جبکہ ان کا آبائی گاؤں واہژ سیہون کے قریب واقع ہے۔ حضرت لال شہباز قلندرؒ کا شہر سیہون نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان میں ایک اہم روحانی، تاریخی اور سیاحتی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔مگر افسوسناک سوال یہ ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ کے آبائی شہر میں آج بھی شہری بنیادی سہولیات کے لیے پریشان ہیں۔صاف پینے کا پانی، نکاسیٔ آب، صفائی، سڑکیں، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات کسی بھی شہر کی ترقی کا بنیادی پیمانہ ہوتی ہیں۔ اگر ایک تاریخی شہر، جو صوبے کے سربراہ کے آبائی علاقے کے طور پر بھی پہچانا جاتا ہے، ان بنیادی مسائل سے دوچار ہو تو پھر عام شہری یہ سوال ضرور کرے گا کہ سندھ کے باقی شہروں کا کیا حال ہوگا؟وزیراعلیٰ سندھ کراچی کو ترقی دینے، شہر کا انفراسٹرکچر بہتر بنانے اور اسے جدید شہر بنانے کے دعوے کرتے ہیں۔ لیکن کراچی کی سڑکوں، پانی، صفائی، نکاسیٔ آب، ٹریفک اور شہری انفراسٹرکچر کی صورتحال دیکھ کر یہ سوال شدت اختیار کر جاتا ہے کہ کیا صرف بڑے بڑے منصوبوں کے اعلانات سے ایک عالمی معیار کا شہر بنایا جا سکتا ہے؟کراچی پاکستان کا معاشی مرکز ہے۔ اس شہر کی بندرگاہیں، صنعتیں، کاروباری مراکز اور لاکھوں لوگوں کا روزگار پورے ملک کی معیشت سے جڑا ہوا ہے۔لیکن آج کراچی کے شہری صاف پانی کے لیے پریشان ہیں، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، بارش کے بعد کئی علاقے پانی میں ڈوب جاتے ہیں، کچرے اور صفائی کے مسائل برقرار ہیں اور شہری ٹریفک کے عذاب سے دوچار ہیں۔یہ صورتحال کسی ایک دن یا ایک حکومت کی پیدا کردہ نہیں، لیکن سندھ میں طویل عرصے سے حکومت کرنے والی جماعت سے یہ سوال ضرور بنتا ہے کہ سولہ سال کے عرصے میں کراچی کے بنیادی شہری مسائل کا مستقل حل کیوں نہیں نکالا جا سکا؟
ترقی منصوبوں کے افتتاح کا نام نہیں
ترقی صرف فلائی اوور بنانے، سڑک کا افتتاح کرنے یا منصوبوں کی تختیاں لگانے کا نام نہیں۔
ترقی یہ ہے کہ شہری کے گھر میں صاف پانی آئے۔ترقی یہ ہے کہ بارش کا پانی سڑکوں پر کھڑا نہ ہو۔
ترقی یہ ہے کہ شہری کو ٹوٹی سڑکوں، گندگی اور بدترین ٹریفک کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ترقی یہ ہے کہ اسپتال، اسکول، سیوریج، پبلک ٹرانسپورٹ اور دیگر بنیادی سہولیات مؤثر انداز میں کام کریں۔
اگر حکومت یہ بنیادی سہولیات فراہم نہیں کر سکتی تو پھر اربوں روپے کے منصوبوں اور ترقی کے دعووں کا فائدہ عام شہری تک کیسے پہنچے گا؟سوال وزیراعلیٰ سے ہے
سید مراد علی شاہ ایک تعلیم یافتہ اور تجربہ کار سیاست دان ہیں۔ اسی لیے ان سے توقع بھی عام حکمرانوں سے زیادہ کی جاتی ہے۔
سوال یہ نہیں کہ حکومت نے کتنے منصوبوں کا اعلان کیا۔سوال یہ ہے کہ عوام کی زندگی میں کتنا فرق آیا؟
سوال یہ نہیں کہ کتنی تختیاں لگیں۔
سوال یہ ہے کہ کتنے شہریوں کو صاف پانی ملا؟سوال یہ نہیں کہ کتنے ترقیاتی بجٹ منظور ہوئے۔سوال یہ ہے کہ کراچی، حیدرآباد، سیہون اور سندھ کے دیگر شہروں کا انفراسٹرکچر آج کہاں کھڑا ہے؟
اگر وزیراعلیٰ سندھ اپنے آبائی شہر سیہون کو ایک مثالی شہر بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکے تو کراچی جیسے بڑے اور پیچیدہ بین الاقوامی شہر کے لیے ترقی کے دعووں کو عملی نتائج میں تبدیل کرنا ان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔کراچی کو سیاست نہیں، مستقل منصوبہ بندی چاہیے
کراچی کی ذمہ داری صرف صوبائی حکومت پر نہیں، بلکہ بلدیاتی اداروں، وفاقی اداروں، ترقیاتی اتھارٹیز اور دیگر متعلقہ محکموں پر بھی عائد ہوتی ہے۔ مگر طویل عرصے سے صوبائی حکومت کا حصہ ہونے کے باعث پیپلز پارٹی کو کراچی کے مسائل پر عوام کے سوالات کا جواب دینا ہوگا۔کراچی کو سیاسی کشمکش سے نکال کر ایک جامع شہری ماسٹر پلان، مؤثر بلدیاتی نظام، صاف پانی، جدید سیوریج، بہتر سڑکوں اور جدید پبلک ٹرانسپورٹ کی ضرورت ہے۔کراچی کو کسی سیاسی جماعت کے احسان کی نہیں، اپنے شہریوں کے حق کی ضرورت ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سے صرف اتنی گزارش ہے:
خدارا سندھ پر رحم کریں۔کراچی کی ترقی کو سیاسی اختلافات، ادارہ جاتی کشمکش اور ناقص منصوبہ بندی کی نذر نہ ہونے دیں۔یہ شہر صرف کراچی کے شہریوں کا نہیں، پورے پاکستان کی معیشت کا مرکز ہے۔کراچی ڈوبے گا تو صرف ایک شہر نہیں ڈوبے گا، پاکستان کی معیشت بھی متاثر ہوگی۔اب وقت دعووں کا نہیں، نتائج کا ہے۔
اب وقت وعدوں کا نہیں، عملی کارکردگی کا ہے۔اور اب کراچی کے شہری صرف یہ جاننا چاہتے ہیں:
سولہ سال بعد بھی اگر بنیادی سہولیات نہیں ملیں تو آخر کب ملیں گی؟

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*