روشنیوں کے شہر کراچی کو پیپلزپارٹی نے برباد کر دیا ہے، ایڈووکیٹ حسنین علی چوہان

ترقی کے پیپلزپارٹی کے دعوے جھوٹے ہیں شہر کھنڈر بنا گیا ہے، ایڈووکیٹ حسنین علی چوہان

ایک بس چلانے کے لئے پوری شہر کو کھود کر رکھ دیا گیا ہے، ایڈووکیٹ حسنین علی چوہان

ناکارہ ٹریفک نظام ہونے کے باوجود ای چالان عوام پر ظلم ہے، ایڈووکیٹ حسنین علی چوہان

کراچی(پریس ریلیز تاریخ 24 دسمبر) انصاف لائرز فورم پی ٹی آئی کراچی کے رہنما ایڈووکیٹ حسنین علی چوہان نے کہا ہے کہ روشنیوں کے شہر کراچی کو پاکستان پیپلزپارٹی کی ناقص حکمرانی، بدانتظامی اور کرپشن نے مکمل طور پر تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی گزشتہ کئی دہائیوں سے کراچی پر مسلط ہے مگر آج بھی شہری بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور شہر کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صرف ایک بس منصوبے کے نام پر پورے شہر کو کھود کر رکھ دیا گیا ہے، جس سے ٹریفک جام معمول بن چکا ہے، ایمبولینسز اور فائر بریگیڈ جیسی ایمرجنسی سروسز بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ کاروباری مراکز، تعلیمی ادارے اور دفاتر جانے والے شہری شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہیں مگر سندھ حکومت کو عوام کی مشکلات سے کوئی سروکار نہیں۔

ایڈووکیٹ حسنین علی چوہان نے مزید کہا کہ کراچی میں کچرے کے ڈھیر، صاف پانی کی شدید قلت، غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، ٹرانسپورٹ کی کمی اور بڑھتی ہوئی اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ صوبائی و شہری حکومت شہر کو چلانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ شہری دن دہاڑے لوٹے جا رہے ہیں مگر امن و امان کے قیام کے لیے کوئی مؤثر اقدامات نظر نہیں آتے۔

انہوں نے کہا کہ ناکارہ ٹریفک نظام، خراب سڑکیں اور غیر فعال سگنلز کے باوجود ای چالان کا نفاذ عوام پر ظلم ہے۔ حکومت پہلے سہولیات فراہم کرے، ٹریفک انفراسٹرکچر بہتر بنائے اور اس کے بعد قانون کا نفاذ کرے۔ موجودہ حالات میں ای چالان شہریوں کے مسائل میں اضافے کے سوا کچھ نہیں۔

ایڈووکیٹ حسنین علی چوہان نے مطالبہ کیا کہ کراچی کو اس کا جائز حق دیا جائے، انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کراچی کے عوام کے حقوق کے لیے ہر آئینی و قانونی فورم پر جدوجہد جاری رکھیں گے اور عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے۔

جاری کردہ: میڈیا سیل پی ٹی آئی کراچی

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*