حمائمہ ملک نے طارق مسعود کو کال کرکے کس ڈائیلاگ پر معافی مانگی؟

مفتی طارق مسعود کی ایک تازہ ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہورہی ہے

پاکستانی ڈراما اور فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ اور ماڈل حمائمہ ملک نے نامور عالم دین مولانا طارق مسعود کو کال کرکے اپنی مشہور فلم کے ڈائیلاگ پر اظہارِ ندامت کردیا۔

معروف اسلامی اسکالر مفتی طارق مسعود کی ایک تازہ ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہورہی ہے، جس میں انہوں نے اداکارہ حمائمہ ملک کے ساتھ ہونے والی ایک ٹیلیفونک گفتگو کا تذکرہ کیا۔

ویڈیو کلپ خاص طور پر ٹک ٹاک پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے، جس میں مفتی طارق مسعود نے حمائمہ ملک کی مشہور فلم ‘بول’ کے ایک متنازع مکالمے پر انکے اظہارِ ندامت کا انکشاف کیا۔

مفتی طارق مسعود، جن کی مدلل اور عام فہم مذہبی گفتگو لاکھوں افراد کی رہنمائی کا باعث بنتی ہے، اپنے مذکورہ بیان میں ‘بول’ فلم کے اس مکالمے کا حوالہ دے رہے تھے جس میں اداکارہ حمائمہ ملک نے کہا تھا کہ ’جب کھلا نہیں سکتے تو پیدا کیوں کرتے ہو؟‘

یہ مکالمہ اس فلم میں غربت سے تنگ ایک باپ اور بیٹی کے جذبات کی عکاسی کے طور پر پیش کیا گیا تھا، جہاں باپ کی دقیانوسی روش پر بیٹیاں ردعمل میں بغاوت پر آمادہ نظر آتی ہیں۔

مفتی صاحب نے بتایا کہ انہوں نے اس مکالمے پر بہت سخت ردعمل دیا تھا کیونکہ یہ مکالمہ دینی اقدار کے برخلاف تھا۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ چند روز قبل اس فلم کی مرکزی اداکارہ حمائمہ ملک نے خود انہیں فون کیا اور اپنے دل کی کیفیت بیان کی۔

مفتی طارق مسعود نے بتایا کہ ‘میں آپ کو اس (اداکارہ) کی اجازت سے بتا رہا ہوں کہ اس اداکارہ نے مجھے کال کرکے بتایا کہ میں نے اپنی فلم کے اس ڈائیلاگ کے بارے میں آپ کا یہ کلپ دیکھ اللہ سے خوب گڑگڑا کر توبہ کی اور آپ کو یہ میں اسی لیے بتا رہی ہوں کہ واقعی وہ میرے منہ سے غلط بات نکلی تھی جس پر میری والدہ نے بھی مجھے نصیحت کی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ‘اداکارہ (حمائمہ ملک) کی والدہ نے بھی مجھ سے فون پر بات کی اور اقرار کیا کہ وہ مکالمے واقعی غلط تھے اور ان کی بیٹی کو ان مکالموں کی ادائیگی پر دکھ ہوا۔

مفتی طارق مسعود کے بقول اداکارہ حمائمہ ملک نے اُن سے کہا کہ اصل غلطی یہ فلم لکھنے والوں کی ہے، کچھ این جی اوز ہیں جو اس طرح کی فلمیں بناتی ہیں اور انہیں اسپانسر کرتی ہیں تاکہ سوسائٹی میں یہ چیزیں پروموٹ ہوں’۔

مفتی طارق مسعود نے اداکارہ کے اس اعتراف کو ایک مثبت مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ ‘مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ ایک مسلمان، چاہے جیسا بھی ہو، اس کا دل نرم ہوتا ہے، اور اس اداکارہ نے اپنی غلطی تسلیم کر کے اعلیٰ ظرفی کا ثبوت دیا ہے’۔

اُنہوں نے مزید بتایا کہ ‘اداکار نے مجھے کہا کہ مفتی صاحب آپ کو یہ بات بتا کر میرا دل ہلکا ہوگیا، میں سمجھتا ہوں اصل غلطی بہرحال ایسی فلمیں بنانے والوں کی ہوتی ہے’۔

مذکورہ کلپ وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے مختلف آراء سامنے آرہی ہیں، کئی افراد نے حمائمہ ملک کے اقدام کو سراہا جبکہ کچھ نے ڈراموں اور فلموں میں اس طرح کے مکالموں پر سنجیدہ سوالات بھی اٹھائے۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*