جب تک انصاف نہیں ملتا بیٹے کی تدفین نہیں کریں گے، 15 سالہ روشم خان کے والدین کا اعلان

کراچی : 15 سالہ حافظِ قرآن روشم خان کے والدین کا انصاف نہ ملنے تک بیٹے کی تدفین نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا بیٹے کے قاتلوں کی گرفتاری اورانصاف چاہیے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے منگھوپیر میں گھر میں ڈکیتی کی واردات کے دوران ڈاکوؤں کی فائرنگ سے 15 سالہ حافظِ قرآن روشم خان کے قتل کو 5 روز گزر جانے کے باوجود پولیس قاتلوں کا سراغ لگانے میں ناکام رہی۔

واقعے کے خلاف مقتول کے اہلخانہ اور علاقہ مکینوں کا منگھوپیر تھانے کے باہر احتجاجی دھرنا پانچویں روز بھی جاری ہے، جس کے باعث 8 بہنوں کے اکلوتے بھائی کی تاحال تدفین نہیں ہو سکی ہے۔

مقتول روشم خان کے والدین اور دھرنے میں موجود مظاہرین نے اعلان کیا ہے کہ جب تک واقعے میں ملوث مرکزی ملزمان کو گرفتار نہیں کیا جاتا، لڑکے کی تدفین نہیں کی جائے گی اور منگھوپیر تھانے کے باہر پرامن احتجاج جاری رہے گا۔

دھرنے میں پاکستان پیپلز پارٹی کی مقامی قیادت نے بھی شرکت کی اور مظاہرین سے اظہارِ یکجہتی کیا۔

دو روز قبل ایس ایس پی ویسٹ طارق الٰہی مستوئی نے مظاہرین سے مذاکرات کیے تھے، تاہم ملزمان کی عدم گرفتاری پر اہلخانہ نے احتجاج ختم کرنے سے انکار کر دیا۔

دوسری جانب ایس ایس پی ویسٹ طارق الٰہی مستوئی کا کہنا ہے کہ کیس پر تیزی سے کام جاری ہے، ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور انہیں جلد قانون کی گرفت میں لے لیا جائے گا۔

خیال رہے سات اور آٹھ ستمبر کی شب منگھو پیر میں مہران سٹی کے ایک گھر میں ڈکیتی کی واردات کے دوران ڈاکوؤں کی فائرنگ سے پندرہ سالہ روشم جاں بحق ہوا تھا، مقتول آٹھ بہنوں کا اکلوتابھائی تھا اور حال ہی میں میٹرک کیا تھا۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*